منگل‬‮ ، 17 فروری‬‮ 2026 

سٹے آرڈر ختم ہوتے ہی اسحاق ڈار کے گھر کا کیا کیا جائے گا ؟ پنجاب حکومت نے فیصلہ سنا دیا

datetime 14  فروری‬‮  2020 |

لاہور(این این آئی) صوبائی وزیر اطلاعات فیاض الحسن چوہان نے کہاہے کہ عدالت نے پنجاب حکومت کو اسحاق ڈار کی رہائش گاہ کی ملکیت سے بے دخل نہیں کیا،ہماری حکومت نے ہمیشہ عدالتی فیصلوں کے سامنے سرتسلیم خم کیا ہے، وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے اسحاق ڈار کی رہائش گاہ پر سرکاری دفتر بنانے کی بجائے غرباء کیلئے وقف کیا،سٹے ختم ہونے کے بعد رہائش گاہ کو آئین و قانون کے مطابق

پھر پناہ گاہ میں بدل دیں گے۔وزیراطلاعات فیاض الحسن چوہان نے اسحاق ڈار کی رہائش گاہ کے سامنے میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے کہاکہ اسحاق ڈار نے 130ارب روپے کی کرپشن کی، آل شریف کے فرنٹ مین کا کردار ادا کیا۔عدالت نے وقتی طور پر سٹے دیا ہے، سٹے کے باعث پناہ گاہ سامنے پارک میں منتقل کی ہے۔وزیراطلاعات پنجاب نے کہاکہ اسحاق ڈار کی آل شریف کیلئے خدمات کی وجہ سے شہبازشریف پنجاب حکومت پر تنقید کر رہے ہیں۔زرداری، مولانا فضل الرحمن، شریف برادران سب کو غریبوں کیلئے پناہ گاہ بنانے پر پیٹ میں مروڑ اٹھ رہے ہیں۔آل شریف کو مستقبل میں جاتی عمرہ میں بھی پناہ گاہ بنتی نظر آ رہی ہے۔زرداری صاحب کو اسلام آباد کے زرداری ہائوس کی فکر پڑ گئی ہے۔وزیراعظم عمران خان اور وزیراعلیٰ عثمان بزدار غریبوں سے محبت کی بناء پر تنقید کا نشانہ بن رہے ہیں۔فیاض الحسن چوہان نے کہاکہ اسحاق ڈار کی اہلیہ نے جھوٹ بولا کہ رہائش گاہ ان کے نام ہے۔یہ پناہ گاہ تمام مستحق اور نادار افراد کیلئے قائم کی گئی ہے، علاقے کی قید نہیں ہے۔انہوں نے کہاکہ آٹے اور چینی کے بحران کے پیچھے اپوزیشن کی سازش اور پلاننگ ہے۔سندھ کے گوداموں سے 80فیصد گندم چوری کی گئی جس سے آٹے کا بحران پیدا ہوا۔صوبائی وزیر نے کہاکہ صرف 12فیصد شوگر ملیں پی ٹی آئی کے لوگوں کی ہیں۔72فیصد شوگرملوں کے مالکان اپویشن کے لوگ ہیں۔وزیراطلاعات پنجاب نے کہاکہ پنجاب میں آٹے کا کسی قسم کا بحران نہیں۔عمران خان کے وژن کی بدولت پاکستان میں عالمی کھیلوں کے مقابلے شروع ہوئے۔پارک میں پناہ گاہ کے قیام کے بارے میں عدالت کے کسی بھی فیصلے پر عمل درآمد کریں گے۔



کالم



وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں


1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…