بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

ترکی پاکستان سے ناراضگی؟ تمام قیاس آرائیاں دم توڑ گئی پاکستان اور ترک حکومت کے درمیان کونسے معاہدے طے پا گئے ؟ تفصیلات جاری

datetime 14  فروری‬‮  2020 |

اسلام آباد (این این آئی)وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ تمام قیاس آرائیاں دم توڑ گئی ہیں کہ ترکی پاکستان سے ناراض ہے،ترک صدر کا خطاب تاریخی نوعیت کا ہے، صدر رجب اردوان نے کشمیر پر جو بات کی وہ تاریخ میں سنہری حروف سے یاد رکھی جائیگی،ترکی ٹیکنالوجی کے کئی شعبوں میں ہم سے ایڈوانس ہے،اقتصادی اسٹریٹیجک فریم ورک سے پاکستان اور ترکی کے

مابین معاشی تعلقات کو نئی بلندی حاصل ہو گی ۔جمعہ کو وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے ترک صدر کے دورہ پاکستان اور پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کے حوالے سے اہم بیان میں کہاکہ ترک صدر رجب طیب اردگان نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں جس طرح اہم ایشوز کے حوالے سے ٹھوس اور واضح موقف اپنایا وہ مثالی ہے،ترک صدر کا اپنے خطاب میں کشمیر کے مسئلے کو اپنا اور ترکوں کا مسئلہ کہنا، غیر معمولی ہے ایسا بیان پہلے کسی ترک صدر کی طرف سے سامنے نہیں آیا ۔ انہوںنے کہاکہ ایک آزاد ریاست، ہماری خارجہ پالیسی کے اہم نکتے کو اپنا نکتہ کہہ رہی ہے اس سے بڑی بات اور کیا ہو سکتی ہے،میں سمجھتا ہوں کہ ہمارے سفارتی روابط میں ایک سنہرے باب کا اضافہ ہوا ہے ۔ انہوںنے کہاکہ آپ کے علم میں ہے کہ ہمارا پڑوسی ایف اے ٹی ایف میں پاکستان کی درجہ بندی کم کرنے کیلئے سرتوڑ کوششیں کر رہا ہے ،ایف اے ٹی ایف کا اگلا اجلاس جو پیرس میں ہونا ہے اس اجلاس سے قبل ہی آج اپنے خطاب میں ترک صدر نے کھل کر پاکستان کے حق میں بات کی ہے۔ انہوںنے کہاکہ ترک صدر نے واضح پیغام دیا ہے کہ ایف اے ٹی ایف کے معاملے پر ترکی پاکستان کے ساتھ کھڑا تھا، کھڑا ہے اور کھڑا رہے گا۔انہوں نے علامہ اقبال کی سوچ، خلافت موومنٹ میں برصغیر کے مسلمانوں کے کردار اور پاکستان اور ترکی کے مابین دو طرفہ تعلقات کے تاریخی

حوالوں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ ہم ان روابط کو اقتصادی شراکت داری میں بدلیں ۔ انہوںنے کہاکہ مجھے یہ بتاتے ہوئے خوشی محسوس ہو رہی ہے کہ ہم گذشتہ ایک سال سے اقتصادی اسٹریٹیجک شراکت داری فریم ورک پر خاموشی سے کام کر رہے تھے کل ہمارا اس اسٹریٹیجک اقتصادی شراکت داری فریم ورک پر ۔ انہوںنے کہاکہ ترکی کے ساتھ اتفاق رائے ہوگیا ہے انشاء اللہ ترک صدر

رجب طیب اردگان اور وزیر اعظم عمران خان اس اسٹریٹیجک اقتصادی شراکت داری فریم ورک پر دستخط کر دیں گے،اس اقتصادی اسٹریٹیجک فریم ورک سے پاکستان اور ترکی کے مابین معاشی تعلقات کو نئی بلندی حاصل ہو گی۔ انہوںنے کہا کہ دفتر خارجہ کل صبح چار بجے تک کھلا تھا اور ہم ترکی کے ساتھ معاہدوں حتمی شکل دے رہے تھے۔ انہوںنے کہاکہ ترکی اور پاکستان کے مابین 12/13 یادداشتوں پر

دستخط متوقع ہیں ۔ انہوںنے کہاکہ صدر طیب اردگان کے خطاب کے بعد تمام قیاس آرائیاں دم توڑ گئیں۔جبکہ ترکی نے پاکستان کے انجینئرنگ، سیاحت، تعمیرات، دفاع، آٹوموٹیو اور کیمیکل کے صنعتی شعبوں میں سرمایہ کاری دلچسپی ظاہر کردی ہے۔یہ اس دلچسپی کا اظہار جمعہ کو وفاقی وزارت تجارت اور ٹریڈ ڈیویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان کے تحت بی ٹو بی سیشن میں کیا گیا ۔ترک صدر طیب اردوان اپنے

ہمراہ ترکی کے 200 سرفہرست سرمایہ کاروں کا وفد لیکر آئے ہیں، بی ٹو بی سیشن پاکستانی سرمایہ کار وصنعتکاروں، ایف پی سی سی آئی، پاکستان بزنس کونسل کے سربراہوں کے علاوہ سرکاری اداروں پی بی آئی ٹی، ٹی ڈی سی پی، پی ٹی ڈی سی، ترکی کے سرکاری اداروں ٹم سیڈ، ڈی آئی ای کے، پاکستان ترکی فرینڈشپ ایسوسی ایشن کے حکام بھی موجود تھے۔

سیشن کے دوران وفاقی مشیر تجارت رزاق داؤد نے ترکی اور پاکستان کے سرفہرست صنعتکار وسرمایہ کاروں سے ملاقاتیں کرکے باہمی تجارت کے حجم میں اضافے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ باہمی تجارت وسرمایہ کاری بڑھانے کے لیے دونوں ممالک کے نجی و سرکاری شعبے نئے شعبوں اور نئی راہیں تلاش کریں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…