بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی رجسٹریشن لازمی قرار، قوانین کو الیکٹرانک کرائمز ایکٹ کا حصہ بنادیا گیا، وفاقی کابینہ نے منظور ی دیدی

datetime 12  فروری‬‮  2020 |

اسلام آباد (این این آئی) وفاقی حکومت نے سوشل میڈیا کو کنٹرول کرنے کے قوانین بنا لیے۔ نجی ٹی وی نے ذرائع کے حوالے سے بتایاکہ وفاقی کابینہ نے نئے سوشل میڈیا قوانین کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت یوٹیوب سمیت سوشل میڈیا پر بنائے جانے والے مقامی پلیٹ فارمز کی رجسٹریشن کرانا لازمی قرار دے دی گئی ہے۔وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کے حکام کا کہنا ہے کہ قوانین کو الیکٹرانک کرائمز ایکٹ کا حصہ بنا دیا گیا،

جس پر عمل درآمد شروع ہوچکا ہے۔حکام نے تصدیق کی ہے کہ قانون نافذ کرنے والے، انٹیلی جنس ادارے قابل اعتراض مواد پر کارروائی کرسکیں گے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ تمام عالمی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور کمپنیوں پر پاکستان میں رابطہ افسر تعینات کرنے کی شرط عائد کی گئی ہے جبکہ تمام سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور کمپنیوں کو ایک سال کے اندر پاکستان میں ڈیٹا سرور بنانا ہوں گے۔قومی اداروں، ملکی سلامتی کے خلاف بات کرنے والوں کے خلاف کارروائی ہوسکے گی۔ذرائع کے مطابق سوشل میڈیا کمپنیوں کو ریگولیٹ کرنے کے لیے نیشنل کوآرڈی نیشن اتھارٹی بنائی جائے گی، جو ہراسگی، اداروں کو نشانہ بنانے، ممنوعہ مواد کی شکایت پر اکاؤنٹ بند کر سکے گی۔اتھارٹی سوشل میڈیا کمپنیوں کے خلاف ویڈیوز نہ ہٹانے پر ایکشن لے گی اور اگر کمپنیوں نے تعاون نہ کیا تو ان کی سروسز معطل کر دی جائیں گی، رولز کو فالو نہ کرنے کی صورت میں پچاس کروڑ تک جرمانہ ہوگا۔ذرائع کے مطابق وفاقی کابینہ نے قواعد میں ترمیم کردی جسے پارلیمنٹ سے منظور کرانے کی ضرورت نہیں۔ذرائع کے مطابق وزارت آئی ٹی کے سینئر حکام نے قانونی مسودہ کی منظوری کی تصدیق کردی ہے۔قانوی مسودے کے مطابق تمام عالمی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی تین ماہ میں پاکستان میں رجسٹریشن لازمی قرار دی گئی ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ یوٹیوب، فیس بک، ٹوئٹر، ٹک ٹاک، ڈیلی موشن سمیت تمام کمپنیاں تین ماہ میں رجسٹریشن کرانے کی پابند ہوں گی۔مسودے میں تمام سوشل میڈیا کمپنیوں کے لیے تین ماہ میں اسلام آباد میں دفتر قائم کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…