بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

وحشی درندوں نے رکشے کی خاطر ایک شخص کی جان لے لی، قاتلوں کو بے نقاب کرکے سرعام سولی پر لٹکایا جائے، وزیراعلیٰ پنجاب اور وزیراعظم سے بیوہ کی فریاد کرتے ہوئے بڑی اپیل بھی کر دی

datetime 12  فروری‬‮  2020 |

قائدآباد (این این آئی) تحصیل قائدآباد کے نواحی موضع سکیسر پل گنجیال جنوبی کی رہائشی بیوہ نے کہا ہے کہ وحشی درندوں نے رکشہ کی خاطر میرے شوہر پر وحشیانہ تشددکیا،قتل کرکے بچوں کو یتیم،مجھے اُجاڑ دیا، وزیراعلیٰ پنجاب محمد عثمان بزدار،وزیراعظم عمران خان مجھے فوری انصاف مہیا کریں،حکومت میری مالی امداد کرکے بچوں کی کفالت کرے، وحشی قاتلوں کو جلدبے نقاب کرکے سرعام سولی پر لٹکایا جائے۔

تفصیلات کے مطابق تحصیل قائدآبادکے نواحی موضع سکیسر پل گنجیال جنوبی کی رہائشی بیوہ مسماۃ زلیخاں بی بی نے میڈیا کے نمائندوں کو بتایا ہے کہ میرے شوہر محمد ارشد جوڑارکشہ ڈرائیور کونامعلوم اشخاص سمیت خواتین نے قائدآبادسے جوہرآبادکے لئے ہزارروپے کرایہ کے عوض میں لے گئے، جسے راستہ ہی پر بے گناہ،بے دردی کے ساتھ قتل کر کے متقول کی نعش ویرانے میدان میں پھینک گئے،نامعلوم افراد خواتین سمیت میرے شوہر کو اغواء کر کے لے گئے اور بعد میں قتل کیا جس پر پولیس تھانہ قائدآباد نے نامعلوم ملزمان پر اغواء اور قتل کا مقدمہ درج کر رکھا ہے، مزید ارشدجوڑا کی بیوہ نے بتایا ہے کہ میری اکلوتی بیٹی اور چھوٹے دو بیٹے ہیں، میراذریعہ معاش نہ ہے اور مالی وسائل نہ ہونے کے باعث بچوں کی تسلی بخش کفالت،تعلیم اور صحت کے اخراجات پورے کرنے انتہائی مشکل ہیں حالانکہ مجھ جیسی بدنصیب خاتون کے شوہر ارشد جوڑا نے اپنے یتیم بھانجوں نے دوماہ قبل قسطوں پر رکشہ نکلوا کر دیا تھا، اس کا ذاتی رکشہ بھی نہ تھا وہ رکشہ ہی ہماری آمدن کا بہترین ذریعہ تھا مگر وہ رکشہ ہمارے متوسط طبقہ کے گھرانوں کو خوشحالی کا سبب نہ بن سکا،مجھے کیا پتا کہ میرے اوپر ظلم وجبر کے پہاڑٹوٹ جائیں گے، اور ظالم لوگ رکشہ کے لالچ میں میرا گھر اجاڑ کر مجھے اندھیر نگری میں دھکیل دیں گے اورمیرے خاوند کو جہلانہ انداز میں آدھی نیند سلادیا جائے گا، حکومت فی الفور نامعلوم قاتلوں کاسراغ لگانے کے لئے

پولیس کی مدد سے موثر وٹھوس ہنگامی اقدامات کے احکامات جاری کرے اور میرے شوہر کے قتل کے حقائق کو جلد عیاں کر کے میرے ساتھ میرٹ کرکے مجھے پورا حق دیا جائے اور حکومت فوری طورپر میرے اور میرے بچوں کے لئے مستقل طورپر مالی امدادکی دادرسی کے لئے بندوبست کرے تاکہ میرے گھر کا بجھا ہوا چولہا آسانی سے چل سکے اور میرے بچے بغیر والد کے تعلیم کا حصول کرکے اپنے گھر کے نظام پر قابوپانے کے لئے اپنے پاوں پر کھڑے ہوسکیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…