بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

سرکاری لنگرخانے تک سیلانی فاؤنڈیشن سے کھانا پہنچانا اہلکاروں کی جیبوں پر بھاری پڑ گیا، سرکاری ملازمین پھٹ پڑے

datetime 12  فروری‬‮  2020 |

اسلام آباد(آن لائن) سرکاری لنگرخانے تک سیلانی فاؤنڈیشن سے کھانا پہنچانا اہلکاروں کی جیب پر بوجھ بن گیا۔سیلانی فاؤنڈیشن ایف ٹن سے ترامڑی اور بھارہ کہو لنگر پہنچانے کی ذمہ داری ضلعی انتظامیہ کے اہلکاروں کی ہے اور کھانے لیجانے والی گاڑی کا کرایہ اہلکاروں کو خود ادا کرنا پڑتا ہے۔

ذمہ دار ذرائع نے بتایا ہے کہ سرکاری ملازمین نے ضلعی افسران کے سامنے اپنا دکھ بیان کرنے کیلئے حکمت عملی مرتب کرلی ہے۔ذرائع کے مطابق ایف ٹن سے ترامڑی اوربھارہ کہو تک کھانا پہنچانے کا کرایہ900روپے ہے جو کہ کھانا لیجانے والے کو اپنی جیب سے ادا کرنا پڑتا ہے۔آن لائن کو سرکاری ملازمین نے بتایا ہے کہ ہمارے ساتھ اس کارِخیر کی وجہ سے بہت ظلم ہورہا ہے،ہماری اتنی زیادہ تنخواہ نہں ی ہے کہ ہم اپنے بچوں کا پیٹ کاٹ کر اس لنگرخانے پر لگا دیں۔اس سلسلے میں وزیراعظم سیٹزن پورٹل پر بھی شکایت درج کروانے جارہے ہیں۔واضح رہے کہ سیلانی فاؤنڈیشن جی نائن پشاور موڑ پر لنگرخود پہنچاتی ہے جبکہ سبزی منڈی والے لنگرخانے تک کھانا کبھی سیلانی فاؤنڈیشن والے پہنچاتے ہیں اور کبھی مارکیٹ کمیٹی والے خود آکر لیجاتے ہیں۔ذرائع کے مطابق ملازمین نے وزیرداخلہ کو بھی ایک گمنام خط کے ذریعے صورتحال سے آگاہ کیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…