بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

معاشی بدمعاشی کے خلاف ملک گیر ہڑتال کا اعلان کردیا گیا

datetime 9  فروری‬‮  2020 |

لاہور(این این آئی)آل پاکستان کسان اتحاد کے مرکزی جنرل سیکرٹری رانامحمد ظفرطاہرنے کہاہے کہ حکومت کی ناقص پالیسیوں کی بدولت ملک میں گندم کی مصنوعی قلت پیدا کی جارہی ہے اورگندم کی امپورٹ وایکسپورٹ سے کسانوں کابدترین معاشی استحصال کیا جارہاہے۔

لاہور پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت کی غلط منصوبہ بندی کے باعث کسان اس وقت انتہائی معاشی مشکلات کا شکارہے،پہلے گندم کی چارلاکھ ٹن مقدار ایکسپورٹ کردی گئی جس سے مصنوعی بحران پیداکیاگیا اور اب جب کے گندم کی فصلیں پک کر تیارکھڑی ہیں اور ان کی کٹائی کا عمل شروع ہونے والاہے تو باہرسے گندم امپورٹ کی جارہی ہے جس سے کسان کی فصل کوئی نہیں خریدے گا اور وہ شدید معاشی ومعاشرتی مسائل کا شکار ہوجائے گا۔یہ تمام کارروائی سوچی سمجھی سکیم کے تحت کی جارہی ہے اس سے اگر کسان کو نقصان ہوگا تو ملک کی تمام انڈسٹریزکو بھی اس کاڈائیریکٹ نقصان ہوگا۔ انہوں نے کہاکہ اگر کسانوں کے ساتھ معاشی بدمعاشی بند نہ کی گئی تو کسان ملک گیر ہڑتال کریں گے اور حکمرانوں کا گھیراؤ کریں گے۔انہوں نے صدر پاکستان، وزیراعظم اور ملک کے تمام گورنرزاور وزرائے اعلی سے اپیل کی ہے کہ خدارا اس سوچی سمجھی سازش کو سمجھا جائے اور فی الفور اس کا تدارک کیا جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…