بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

اڈیالہ جیل مبینہ طور پر گوانتاناموبے اور اہل ثروت ملزمان کے لئے عیاشی کا مرکز بن گئی، انتہائی ہوشربا انکشافات

datetime 8  فروری‬‮  2020 |

راولپنڈی (آن لائن) راولپنڈی کی سینٹرل جیل اڈیالہ مبینہ طور پرغریب اور لاوارث حوالاتیوں اور قیدیوں کے لئے گوانتاناموبے اور اہل ثروت ملزمان کے لئے عیاشی کا مرکز بن گئی معمولی نوعیت کے ایک جرم میں 13دن تک اڈیالہ جیل میں پابند سلاسل رہنے والے ملزم نے نام ظاہر نہ کرنے کی استدعا پر بتایا کہ

جیل میں نئے حوالاتیوں سے 24گھنٹے مشقت لی جاتی ہے جبکہ مشقت سے بچنے کے لئے5ہزار روپے کا ریٹ مقرر ہے گھر سے آنے والے سامان کی وصولی کے لئے جیل انتظامیہ اور نمبردار قیدیوں کو 500روپے بھتہ دینا پڑتا ہے اسی طرح صاحب حیثیت ملزمان کو مشقتی کی سہولت کے لئے 5ہزار روپے ریٹ مقرر ہے جبکہ جیل میں قائم پی سی او کی پرچی کے لئے غیر قانونی طور پر 200روپے فیس مقرر کی گئی ہے جیل کے اندر سبزی وغیرہ لانے کا سسٹم ختم کر کے جیل کنٹین کو کھلی چھوٹ دے دی گئی ہے جہاں 2گنا سے زائد نرخوں پر اشیا فروخت کی جاتی ہیں جیل انتظامیہ اور نمبردار قیدیوں کی بات نہ ماننے والے نئے حوالاتیوں کو تشدد کے بعد قصوری چکی میں بند کر دیا جاتا ہے جیل کا برملا اظہار کرتا ہے کہ بعض بارکیں ٹھیکے پر ہیں اور جیل سپرنٹنڈنٹ کو حساب دینا پڑتا ہے مذکورہ حوالاتی نے بتایا کہ جیل کا دورہ کرنے والے معززجج صاحبان یا حکومتی شخصیات کو مخصوص حصوں کا دورہ کروا کر سب اچھا کی رپورٹ دی جاتی ہے مذکورہ حوالاتی نے صوبائی وزیر جیل خانہ جات،آئی جی جیل خانہ جات سے اپیل کی کہ وہ از خود اڈیالہ جیل کا دورہ کریں اور حالات کا جائزہ لے کر تمام عملہ تبدیل کریں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…