بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

افشاں لطیف کے قتل کی خبروں کا ڈراپ سین، اقراء کی پراسرار ہلاکت کے بعد کس کی جان کو خطرہ ہے؟ افشاں لطیف کا دھماکہ خیز انکشاف

datetime 8  فروری‬‮  2020 |

لاہور(این این آئی) کاشانہ ویلفیئر ہوم کی سابقہ سپرنٹنڈنٹ افشاں لطیف نے کہا ہے کہ میں بالکل خیریت سے ہوں اور سوشل میڈیا پر میرے قتل کی خبریں درست نہیں ہیں،اقراء کائنات کی ایدھی سنٹر میں پراسرار ہلاکت اس کی نیک نامی پر سوالیہ نشان بن چکی ہے،

اقراء کائنات کاشانہ میں بچیوں کے ساتھ پیش آنے والے واقعات کی اہم گواہ تھی اس لئے اس پر اسرار ہلاکت کی تحقیقات کی جانی چاہئیں۔اپنے ویڈیو بیان میں افشاں لطیف نے کہا کہ ایدھی سنٹر کی انچارج معصومہ کی جانب سے اقرا ء کائنات کا ڈیتھ سرٹیفکیٹ جاری کیا گیا او ر اسے لا وارث قرار دے کر اس کی تدفین کی تمام تیاریاں مکمل کر لی گئی تھیں۔ اگر میں یہ معاملہ سوشل میڈیا، الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا میں نہ لاتی تو اب تک اقراء کائنات کو گمنامی کی حالت میں دفن کر دیا گیا ہوتا۔ اقراء کائنات کی پوسٹمارٹم رپورٹ آنا ابھی باقی ہے،میری ایدھی سنٹر کی انتظامیہ سے اپیل ہے کہ انچارج معصومہ کو تحفظ دیا جائے کیونکہ وہ تمام واقعات کی گوا ہ ہے کہ اس نے کس کے کہنے پر اقراء کائنات کو ایدھی سنٹر میں لاوارث کے طور پر رکھا، کس کے کہنے پر ڈیتھ سر ٹیفکیٹ جاری کیا گیا اور کس کے کہنے پر اسے لاوارث قرار دے کر تدفین کرنے کی تیاریاں مکمل کی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ میری ریاستی اداروں سے بھی اپیل ہے کہ کاشانہ سکینڈل کے تمام گواہوں کو تحفظ دیا جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…