منگل‬‮ ، 17 فروری‬‮ 2026 

افشاں لطیف کے قتل کی خبروں کا ڈراپ سین، اقراء کی پراسرار ہلاکت کے بعد کس کی جان کو خطرہ ہے؟ افشاں لطیف کا دھماکہ خیز انکشاف

datetime 8  فروری‬‮  2020 |

لاہور(این این آئی) کاشانہ ویلفیئر ہوم کی سابقہ سپرنٹنڈنٹ افشاں لطیف نے کہا ہے کہ میں بالکل خیریت سے ہوں اور سوشل میڈیا پر میرے قتل کی خبریں درست نہیں ہیں،اقراء کائنات کی ایدھی سنٹر میں پراسرار ہلاکت اس کی نیک نامی پر سوالیہ نشان بن چکی ہے،

اقراء کائنات کاشانہ میں بچیوں کے ساتھ پیش آنے والے واقعات کی اہم گواہ تھی اس لئے اس پر اسرار ہلاکت کی تحقیقات کی جانی چاہئیں۔اپنے ویڈیو بیان میں افشاں لطیف نے کہا کہ ایدھی سنٹر کی انچارج معصومہ کی جانب سے اقرا ء کائنات کا ڈیتھ سرٹیفکیٹ جاری کیا گیا او ر اسے لا وارث قرار دے کر اس کی تدفین کی تمام تیاریاں مکمل کر لی گئی تھیں۔ اگر میں یہ معاملہ سوشل میڈیا، الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا میں نہ لاتی تو اب تک اقراء کائنات کو گمنامی کی حالت میں دفن کر دیا گیا ہوتا۔ اقراء کائنات کی پوسٹمارٹم رپورٹ آنا ابھی باقی ہے،میری ایدھی سنٹر کی انتظامیہ سے اپیل ہے کہ انچارج معصومہ کو تحفظ دیا جائے کیونکہ وہ تمام واقعات کی گوا ہ ہے کہ اس نے کس کے کہنے پر اقراء کائنات کو ایدھی سنٹر میں لاوارث کے طور پر رکھا، کس کے کہنے پر ڈیتھ سر ٹیفکیٹ جاری کیا گیا اور کس کے کہنے پر اسے لاوارث قرار دے کر تدفین کرنے کی تیاریاں مکمل کی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ میری ریاستی اداروں سے بھی اپیل ہے کہ کاشانہ سکینڈل کے تمام گواہوں کو تحفظ دیا جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں


1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…