منگل‬‮ ، 17 فروری‬‮ 2026 

ڈی سی دالبندین کا کروڑوں کی منشیات تحویل میں لینے اور مقدمہ درج کرنے سے انکار مجھے نہیں سمجھ آرہا یہ کونسا قانون ہے،اسسٹنٹ کمشنر عائشہ زہری کی ویڈیو وائرل

datetime 8  فروری‬‮  2020 |

کوئٹہ(این این آئی)وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال کے حکم پر ڈپٹی کمشنر دالبندین فتح محمد خان کا کروڑوں روپے کی برآمد منشیات تحویل میں لینے سے انکار پر تحقیقات شروع کر دی گئیں۔میڈیا رپورٹ کے مطابق تین روز قبل اسسٹنٹ کمشنر (اے سی) عائشہ زہری نے بڑی تعداد میں کروڑوں روپے کی مالیت کے کیمیکلز کی کھیپ جسے منشیات میں استعمال کیا جاتا تھا اپنے ساتھی اہلکاروں کے ساتھ

کامیاب آپریشن کرتے ہوئے برآمد کیں مگر جب وہ دالبندین کے لیویز تھانے پہنچیں تو ڈپٹی کمشنر دالبندین فتح خان نے اس کا مقدمہ درج کرنے اور برآمد شدہ مال کو تحویل میں لینے سے انکار کر دیا اس حوالے سے عائشہ زہری نے اپنی ایک ویڈیو میں بتایا کہ کارروائی کے دوران حوصلے بلند تھے اور جان ہتھیلی پر رکھ کر اسے اپنے ساتھیوں کے ساتھ کامیاب بنایا تاہم تھانے پہنچنے پر تھانے کے انچارج اختر محمد خان نے بتایا کہ ڈی سی صاحب نے برآمد شدہ مال کو تحویل میں لینے سے انکار کر دیا ہے۔عائشہ زہری کا کہنا تھا کہ وہ یہ سن کر حیرت زدہ ہوگئیں اور انہیں نہیں سمجھ آیا کہ آخر ڈی سی صاحب نے کروڑوں روپے کی منشیات کو تحویل میں لینے سے کیوں انکار کیا۔انہوں نے کہا کہ مجھے نہیں سمجھ آرہا یہ کونسا قانون ہے، میں اس چیز کو ابھی تک نہیں سمجھ پا رہی ہوں، میں نے بس اپنی رپورٹ لکھی ہے آگے جو کارروائی ہوگی وہ ضلع کرے گا۔اسسٹنٹ کمشنر کی وائرل ہونے والی ویڈیو پر وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال نے نوٹس لیتے ہوئے ڈپٹی کمشنر چاغی و کمشنر رخشان ڈویژن کی طرف سے عدم تعاون کے الزامات پر انکوائری کے احکامات جاری کر دیئے۔وزیراعلیٰ جام کمال کی ہدایت پر گریڈ 20 کے آغا تیمور شاہ کو انکوائری آفیسر مقرر کر کے 3 روز میں انکوائری رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کی گئی ہے۔دوسری جانب ڈپٹی کمشنر دالبندین فتح محمد خان نے اس پورے معاملے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ نہیں معلوم اے سی صاحبہ نے ایسا الزام کیوں عائد کیا ہے، حالانکہ تمام سامان اب بھی تھانے میں موجود ہے۔‎

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں


1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…