بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

آئی ایم ایف نے پاکستان کو معاشی خود مختاری سے محروم کردیا، بجٹ میں عوام کی جیبوں پر کتنے سو ارب اضافی ٹیکس کا بوجھ ڈالا جائے گا، تہلکہ خیز انکشاف

datetime 7  فروری‬‮  2020 |

لاہور(این این آئی)تحریک لبیک پاکستان نے آئی ایم ایف کے پروگرام ای ایف ایف کیخلاف وائٹ پیپر جاری کردیا۔نیا منی بجٹ عوام پر مزید 200ارب روپے کے اضافی ٹیکس کا بوجھ ڈالے گا۔آئی ایم ایف نے پاکستان کو معاشی خود مختاری سے محروم کردیا ہے۔حکومت آئی ایم ایف کے ہاتھوں میں آلہ کار بن گئی ہے۔آئی ایم ایف کا ای ایف ایف پروگرام معاشی بہبود کیلئے نقصان دہ ہے۔

ان خیالات کا اظہار تحریک لبیک پاکستان کے رہنما پروفیسر یونس قادری نے لاہور پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر مفتی عابد قادری،مہر محمدقاسم،حامد افضل اور محمد مطیب ان کے ہمراہ تھے۔انہوں نے مزید کہا پاکستان میں ترقی کی شرح بے روزگاری کو بڑھارہی ہے اور افراط زر بہت زیادہ ہو گیا ہے۔ملک کی حلال معیشت کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔مستدفین بے بسی کا شکار ہو رہے ہیں اور ٹیکس کی محصول کو اصولی طور پر علاقی اور بین الاقوامی سود خوروں کے رباکی ادائیگی کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے۔اس مرحلے پر پاکستان کی عالمی معیشت سے منسلک کرنے کا مطلب اسکول عالمی کساد بازاری کے دھانے پر چھوڑ دیا جائے۔چین میں کرونا وائرس کے پھیلنے کی ایک بڑی وجہ کساد بازاری کا سامنا بھی ہے۔خود آئی ایم ایف نے بھی پیش گوئی کی ہے کہ عالمی نمود کی شرح 2020 میں دو فیصد سے تجاوز نہیں کرے گی۔انہوں نے مزید کہا 2013اور 2016کے ای ایف ایف پروگرام کی طرح موجودہ پروگرام معاشی استحکام کا ایک غلط تصور بھی دیتا ہے۔معاشی استحکام کیلئے پیداواری صلاحیت میں اضافے کی ضرورت ہوتی ہے۔آئی ایم ایف کے پروگرام میں ان چیلنجوں کا ذکر موجود نہیں ہے۔تحریک لبیک پاکستان ایک متبادل پروگرام پیش کرتی ہے۔جس میں سود کی ادائیگیوں کو مسترد کرنے اور آڈٹ کرنے اور اصولی قرضوں کی ذمہ داریوں کی تجدید پر زوردیا جائے۔انہوں نے مستحکم ملکی معیشت کی ترقی پر بھی زور دیا۔جس میں گھریلو طلب میں اضافے،ٹیکسوں کے بوجھ کو ختم کرنے پر توجہ مرکوز کی جائے۔مالیاتی شعبہ اور مسلم ممالک کے ساتھ تعلقات میں قربت اور ان ممالک کے ساتھ تجارت اور سرمایہ کاری میں اضافے کو فروغ دیا جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…