منگل‬‮ ، 17 فروری‬‮ 2026 

’’ہیلتھ سسٹم ایسا ہو کہ ڈاکٹر باہر نہ جائیں بلکہ ہمارے دور کی طرح واپس آئیں‘‘ عوام کو بنیادی سہولیات دینے کیلئے حکومت کیا کرے ؟ پرویز الہٰی نے مشورہ دیدیا

datetime 7  فروری‬‮  2020 |

لاہور(این این آئی ) سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویزالٰہی نے کہا ہے کہ ہیلتھ سسٹم ایسا ہونا چاہئے کہ ڈاکٹر پاکستان سے باہر نہ جائیں بلکہ ہمارے درکی طرح واپس آئیں۔ وہ گرینڈ ہیلتھ الائنس پنجاب کے صدر سلیمان حبیب چودھری کی قیادت میں ینگ ڈاکٹرز، نرسز اور پیرامیڈیکل سٹاف کے عہدیداروں پر مشتمل وفد سے گفتگو کررہے تھے جس نے یہاں ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی۔ چودھری پرویزالٰہی نے کہا کہ

عوام کو بلاامتیاز طبی سہولتوں کی فراہمی حکومت کی ذمہ داری ہے۔ ینگ ڈاکٹرز، نرسز اور پیرامیڈیکل سٹاف کے مسائل حل ہونے چاہئیں اور انہیں بھی دل لگا کر مریضوں کی خدمت کرنی چاہئے۔ وفد میں ڈاکٹر نادر بٹ صدر وائی ڈی اے، ملک منیر احمد صدر پنجاب پیرامیڈیکل سٹاف، شیخ محمد نصرت، ڈاکٹر جعفر نقوی، ڈاکٹر مدثر مرزا، ڈاکٹر محمود الحسن، ڈاکٹر حسنین احمد، ڈاکٹر سعود افضل، ڈاکٹر عثمان، ڈاکٹر احتشام، ڈاکٹر نقاش، ڈاکٹر عبدالرحمن، سٹاف نرس زاہدہ، شبانہ، ثوبیہ، لبنیٰ یاسمین، فرزانہ یاسمین، شمشاد نیازی، نیلم شہزادی، شازیہ مجید، فاخرہ الیاس اور میڈم رضیہ شامل تھیں۔ گرینڈ ہیلتھ الائنس پنجاب کے صدر نے سپیکر کو تفصیل سے اپنے مسائل و مطالبات سے آگاہ کیا۔ چودھری پرویزالٰہی نے کہا کہ صحت سمیت تمام شعبوں میں موجود خامیوں کو دورکرنا حکومت کا کام ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ امر افسوسناک ہے کہ ینگ ڈاکٹر بیرون ملک ملازمت کو ترجیح دے رہے ہیں کیونکہ ان کا کہنا ہے کہ وہ اپنے مستقبل کے بارے میں تشویش کا شکار ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہسپتالوں میں مریضوں کو زیادہ سے زیادہ طبی سہولتوں کی فراہمی کیلئے موثر اقدامات کی ضرورت ہے، ہسپتال میں جانے والے مریض کو علاج معالجہ کی بہترین سہولتوں کی فراہمی کے علاوہ ان کی دلجوئی بھی ہونی چاہئے، یہ نہیں کہ ایک ایک بیڈ پر تین تین مریض پڑے ہوں، ڈاکٹر، نرسز اور پیرامیڈیکل سٹاف اپنے مسائل و مطالبات کیلئے آئے روز ہڑتال پر ہوں، ہیلتھ سسٹم کی خامیوں کو دور کرنے کیلئے فوری اور مؤثر اقدامات کرنا ہوں گے۔



کالم



وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں


1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…