بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

سعودی شہزادے کو پاکستان سے کتنے شاہین برآمد کرنے کی اجازت دیدی گئی

datetime 7  فروری‬‮  2020 |

کراچی(آن لائن)وفاقی حکومت نے سعودی عرب کے شہزادے فہد بن سلطان بن عبدالعزیز السعود کو20-2019 کے دوران 50 شاہین پاکستان سے سعودی عرب برآمد کرنے کی اجازت دے دی۔ذرائع کے مطابق شاہین کی انتہائی معدوم اقسام سکیر اور پریگرین کو ملک میں موسم سرما کے دوران عالمی سطح پر تحفظ دیے گئے پرندے تلور کا شکار کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے اور سعودی عرب کے شکاری تلور کے

شکار کے لیے بڑی تعداد میں شاہین اپنے پاس رکھتے ہیں۔تاہم وقت کے ساتھ شاہین بوڑھے ہوجاتے ہیں اور شکاریوں کو انہیں کم عمر شاہیوں سے بدلنا پڑتا ہے تا کہ تلور کا بہتر طریقے سے شکار کیا جائے۔لہٰذا سعودی عرب کی درخواست پر حکومت پاکستان کی جانب سے اجازت پرمٹ جاری کردیا گیا۔ذرائع کا کہنا تھا کہ شاہینوں کی برآمد کا اجازت نامہ جاری کر کے حکومت جنگلی حیات کی انڈر گراؤنڈ بلیک مارکیٹ کو فروغ دے رہی ہے اور اس کی سرپرستی کررہی ہے کیوں کہ قانونی طور پر یہاں شاہینوں کو قید، فروخت اور خریدا نہی جاسکتا۔خیال رہے کہ شاہین کی برآمد کے لیے اسے جنگلی حیات کی غیر قانونی خرید و فروخت کرنے والے تاجروں سے خریدنا پڑے گا۔ذرائع کا کہنا تھا کہ شہزادہ فہد صوبہ تبوک کے گورنر بھی ہیں اور انہوں نے سعودی سفارتخانے کے ذریعے برآمدی اجازت نامے کی درخواست کی تھی۔جس پر وزارت خارجہ کے ڈپٹی چیف آف پروٹوکول محمد عدیل پرویز نے اجازت نامہ جاری کیا اور اسے اسلام آباد میں سعودی سفارتخانے پہنچادیا گیا۔محمد عدیل پرویز نے ایمبیسی کو بھیجے گئے خط میں لکھا کہ ’اسلامی جمہوریہ پاکستان کی وزارت خارجہ اسلام آباد میں موجود سعودی سفارتخانے کو اپنی تہینت پیش کرتا ہے اور اس کے شاہینوں کی برآمد کے حوالے سے سفارتی نوٹ کے بارے میں بتانا چاہتا ہے کہ سفارتخانہ سعودی عرب کے صوبے تبوک کے گورنر شہزادہ فہد بن سلطان کے ذاتی استعمال کے لیے 5 شاہین پاکستان سے سعودی عرب برآمد کرسکتا ہے‘۔خط میں لکھا گیا کہ ’اس ضمن میں متعلقہ حکام سے درخواست کی جاتی ہے کہ 50 شاہینوں کی سعودی عرب برا?مد میں سہولت فراہم کریں۔ذرائع کا کہنا تھا کہ شہزادہ فہد کچھ عرصہ قبل اس وقت عالمی میڈیا کی توجہ کا مرکز بنے تھیجب بلوچستان کے ضلع چاغی کے افسر جعفر بلوچ کے مطابق محکمہ جنگلی حیات اور جنگلات شہزادہ فہد اور ان کی پارٹی نے 21 دنوں میں 2100 تلور شکار کیے تھے جو 10 روز میں 100 تلور شکار کرنے کی اجازتی حد کی خلاف وزی تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…