منگل‬‮ ، 17 فروری‬‮ 2026 

سعودی شہزادے کو پاکستان سے کتنے شاہین برآمد کرنے کی اجازت دیدی گئی

datetime 7  فروری‬‮  2020 |

کراچی(آن لائن)وفاقی حکومت نے سعودی عرب کے شہزادے فہد بن سلطان بن عبدالعزیز السعود کو20-2019 کے دوران 50 شاہین پاکستان سے سعودی عرب برآمد کرنے کی اجازت دے دی۔ذرائع کے مطابق شاہین کی انتہائی معدوم اقسام سکیر اور پریگرین کو ملک میں موسم سرما کے دوران عالمی سطح پر تحفظ دیے گئے پرندے تلور کا شکار کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے اور سعودی عرب کے شکاری تلور کے

شکار کے لیے بڑی تعداد میں شاہین اپنے پاس رکھتے ہیں۔تاہم وقت کے ساتھ شاہین بوڑھے ہوجاتے ہیں اور شکاریوں کو انہیں کم عمر شاہیوں سے بدلنا پڑتا ہے تا کہ تلور کا بہتر طریقے سے شکار کیا جائے۔لہٰذا سعودی عرب کی درخواست پر حکومت پاکستان کی جانب سے اجازت پرمٹ جاری کردیا گیا۔ذرائع کا کہنا تھا کہ شاہینوں کی برآمد کا اجازت نامہ جاری کر کے حکومت جنگلی حیات کی انڈر گراؤنڈ بلیک مارکیٹ کو فروغ دے رہی ہے اور اس کی سرپرستی کررہی ہے کیوں کہ قانونی طور پر یہاں شاہینوں کو قید، فروخت اور خریدا نہی جاسکتا۔خیال رہے کہ شاہین کی برآمد کے لیے اسے جنگلی حیات کی غیر قانونی خرید و فروخت کرنے والے تاجروں سے خریدنا پڑے گا۔ذرائع کا کہنا تھا کہ شہزادہ فہد صوبہ تبوک کے گورنر بھی ہیں اور انہوں نے سعودی سفارتخانے کے ذریعے برآمدی اجازت نامے کی درخواست کی تھی۔جس پر وزارت خارجہ کے ڈپٹی چیف آف پروٹوکول محمد عدیل پرویز نے اجازت نامہ جاری کیا اور اسے اسلام آباد میں سعودی سفارتخانے پہنچادیا گیا۔محمد عدیل پرویز نے ایمبیسی کو بھیجے گئے خط میں لکھا کہ ’اسلامی جمہوریہ پاکستان کی وزارت خارجہ اسلام آباد میں موجود سعودی سفارتخانے کو اپنی تہینت پیش کرتا ہے اور اس کے شاہینوں کی برآمد کے حوالے سے سفارتی نوٹ کے بارے میں بتانا چاہتا ہے کہ سفارتخانہ سعودی عرب کے صوبے تبوک کے گورنر شہزادہ فہد بن سلطان کے ذاتی استعمال کے لیے 5 شاہین پاکستان سے سعودی عرب برآمد کرسکتا ہے‘۔خط میں لکھا گیا کہ ’اس ضمن میں متعلقہ حکام سے درخواست کی جاتی ہے کہ 50 شاہینوں کی سعودی عرب برا?مد میں سہولت فراہم کریں۔ذرائع کا کہنا تھا کہ شہزادہ فہد کچھ عرصہ قبل اس وقت عالمی میڈیا کی توجہ کا مرکز بنے تھیجب بلوچستان کے ضلع چاغی کے افسر جعفر بلوچ کے مطابق محکمہ جنگلی حیات اور جنگلات شہزادہ فہد اور ان کی پارٹی نے 21 دنوں میں 2100 تلور شکار کیے تھے جو 10 روز میں 100 تلور شکار کرنے کی اجازتی حد کی خلاف وزی تھی۔



کالم



وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں


1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…