بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

حکومت گراں فروشوں اور منافع خوروں پر قابو پانے میں ناکام، آٹے کی انتہائی مہنگے داموں فروخت جاری، عوام رُل گئے

datetime 7  فروری‬‮  2020 |

حیدرآباد(این این آئی) حیدرآباد کی آٹا چکیوں پر 5 کلو آٹا290روپے میں فروخت کیاجارہاہے، ضلعی حکومت اور انتظامیہ آٹاچکی مالکان کی گراں فروشی‘ منافع خوری پر قابو پانے میں قطعی طور پر نام کام ہے۔حکومت سندھ اور ضلعی انتظامیہ نے آٹا فی کلو43روپے کا نرخ مقرر کیا ہے

لیکن مختلف وجوہ کی بناء پر آٹا چکی کے مالکان آٹا فی کلو58روپے یعنی سرکاری قیمت سے 15 روپے فی کلو زائد وصول کررہے ہیں، آٹا چکی مالکان کا موقف ہے کہ سرکاری سطح پر ہمیں گندم انتہائی ناقص‘ مٹی اور پتھر ملی ہوئی فراہم کی جارہی ہے جس کی وجہ سے ہم سرکاری گندم خریدنے کے بجائے اوپن مارکیٹ س زائد قیمت پر گندم خرید رہے ہۃن اس لئے ہم سرکاری قیمت پر آٹا فروخت کرنے سے قاصر ہیں اب اس میں کہاتک صداقت ہے یہ تحقیقات کرنا حکومتی اداروں کا کام ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ شہر بھی آٹا آج بھی 290روپے تک دکاں پر فروخت کیارجاہے اور ضلعی انتظامیہ محض بیان بازی سے غریب عوام کو مطمعین کرنے کی کوشش کررہی ہے اگر واقعے سرکاری گوداموں سے چکی مالکان کو ناقص گندم فراہم کی جارہی تو محکمہ فوڈ کے ذمہ دار افسران اور عملہ کے خلاف سخت ترین کاروائی کی جائے اور اگر یہ غلط تو آٹا چکی مالکان کے خلاف سخت ترین کاروائی کی جائے تاکہ آئندہ کوئی بھی طبقہ عوام کو بلاجواز پریشانی میں مبتلا نہ کرسکے اور مصنوعی اور کود ساختہ مہنگائی سے نجات حاصل ہو آٹا چکی مالکان اگر قانونی گرفت میں آتے ہیں تو ان کو جیلوں میں بھیجا جائے او ر چکیوں کو سیل کیاجائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…