بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

کاشانہ سکینڈل کی کائنات نامی لڑکی انتقال کر گئی، کائنات کو لاوارث قرار دے کر سپرد خاک کرنے نہیں دوں گی، افشاں لطیف نے دھماکہ خیز اعلان کر دیا

datetime 5  فروری‬‮  2020 |

لاہور (آن لائن) کاشانہ سکینڈل کی کائنات نامی لڑکی ایدھی سنٹر میں انتقال کر گئی، وہ گزشتہ کئی روز سے وہاں زیر علاج تھی، پتہ چلا ہے کہ کائنات کو لاوارث قرار دے کر سپرد خاک کیا جا رہا ہے۔ تاہم کاشانہ کی سابق سپرنٹنڈنٹ افشاں لطیف نے کہا ہے کہ وہ کائنات کو لاوارث قرار دے کر سپرد خاک نہیں کرنے دیں گی،

ایک بیان میں افشاں لطیف نے کہا کہ انہوں نے 2 ماہ قبل خدشہ ظاہر کیا تھا کہ کائنات کو مار دیا جائے گا اور ایسا ہی ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کائنات شادی شدہ تھی، اس کا شوہر عابد موجود ہے مگر بعض حکومتی وزراء کے ایما پر اس کے شوہر کو کائنات کی نعش لے جانے سے روکا جا رہا ہے۔ افشاں لطیف نے کہا کہ میں بطور کسٹوڈین کاشانہ کائنات کی ماں ہوں اور کاشانہ میں موجود بچیاں اس کی بہنیں ہیں لہٰذا میں کسی صورت اس کی لاوارث تدفین نہیں ہونے دوں گی۔ میں دو مہینے سے اپیل کر رہی تھی کائنات کو تحفظ فراہم کیا جائے مگر اس معاملے پر بھی روایتی چاپلوسی کا مظاہر کیا گیا جس کے باعث کائنات کی موت واقع ہوئی ہے۔ افشاں لطیف نے الزام عائد کیا کہ صوبائی وزیر قانون راجہ بشارت اس سارے معاملے پر اثر انداز ہونے کی کوشش کر رہے ہیں کیونکہ کائنات کو کاشانہ سکینڈل منظر عام پر آنے کے فوری بعد اس کے سسرال سے اٹھا لیا گیا تھا اور میرے خلاف استعمال کرنے کی کوشش کی گئی۔جب میری طرف سے تمام ثبوت عدالت اور میڈیا کو پیش کئے گئے تو اس لڑکی کو غائب کر دیا گیا اب اس کی موت واقع ہو گئی ہے۔ افشاں لطیف نے کہا کہ میں کسی صورت کائنات کو لاوارث قرار دے کر سپرد خاک کرنے نہیں دوں گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…