بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

بچوں سے زیادتی،مجرم کو متاثرہ خاندان کے سامنے پھانسی دینے کی تجویز،نئے قوانین تیار

datetime 5  فروری‬‮  2020 |

پشاور(این این آئی)خیبر پختونخوا حکومت نے بچوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات کی روک تھام کیلئے قانون میں سخت سزائیں شامل کرتے ہوئے گھنائونے فعل کے مجرموں کو پھانسی دینے، متاثرہ خاندان کو پھانسی دیکھنے کیلئے پھانسی گھاٹ تک رسائی دینے، پھانسی کی ویڈیو جاری کرنے اور عمر قید کی صورت میں ساری زندگی جیل میں گزارنے کا فیصلہ کیا ہے۔

معصوم بچوں کے استحصال کے مقدمات کیلئے ماڈل کورٹس بنائے جائیں گے ، مقدمہ کا فیصلہ 30 دنوں کے اندر کیا جائیگا، مجوزہ قانون کا ڈرافٹ ایک ہفتہ میں تیار کرکے منظوری کیلئے اسمبلی میں پیش کیا جائیگا۔ خیبر پختونخوا اسمبلی نے بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے بڑھتے ہوئے واقعات کے پیش نظر موجودہ قوانین کا جائزہ لیکر اس میں سخت سزائیں شامل کرنے کیلئے اسپیکر مشتاق غنی کی سربراہی میں اسپیشل پارلیمانی کمیٹی قائم کی تھی۔ذرائع کے مطابق کمیٹی نے بچوں کے ساتھ گھنائونے فعل میں ملوث مجرمان کیلئے سرعام پھانسی کی سزا تجویز کی تاہم چونکہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد اس پر عمل درآمد نہیں ہوسکتا اس لئے کمیٹی نے مجرم کو پھانسی دینے کے ساتھ متاثرہ خاندان کے افراد کو مجرم کی پھانسی اپنی آنکھوں سے دیکھنے کیلئے انہیں پھانسی گھاٹ تک رسائی دینے پر اتفاق کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق مجرم کو پھانسی دینے کی ویڈیو بھی عام کی جائے گی تاکہ لوگ اس سے عبرت حاصل کرسکیں، اس سلسلے میں خیبر پختونخوا کے ایڈووکیٹ جنرل شمائل بٹ نے تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنسی تشدد کے واقعات کے مقدمات کی اسپیڈی ٹرائل کیلئے ماڈل کورٹس بنائے جائیں گے جو 30 دنوں کے اندر فیصلہ کریں گے۔ انہوں نے کہاکہ عمر قید کی صورت میں مجرم کو باقی ماندہ زندگی جیل میں گزارنی ہوگی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…