’’جہانگیر ترین تو وزیراعظم عمران خان کی بغل میں رہتے ہیں ‘‘ کونسی طاقتور شخصیات حکومت کو گرانے کی کوشش کررہا کر رہی ہیں؟حیرت انگیز دعویٰ

4  فروری‬‮  2020

کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک)وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کرپٹ مافیا حکومت کو گرانے کی کوشش کررہا ہے، وہ کون سے مافیاز ہیں جو حکومت کو کام کرنے نہیں دے رہے؟  جیو ٹی وی  پروگرام میں جواب دیتے ہوئے تجزیہ کاروں نے کہاکہ وزیراعظم عمران خان کو کوئی نیا مافیا نہیں یہی طاقتورا شرافیہ کام کرنے سے روک رہی ہے، حسن نثا ر نے کہا کہ

اس ملک میں جس کے پاس کوئی طاقت ہے وہ کسی مافیا سے کم نہیں ہے، مظہر عباس کا کہنا تھا کہ کراچی میں طاقتور اشرافیہ سے لے کر فقیروں تک کی مافیا ہے.کراچی میں ٹرانسپورٹ مافیا اتنی طاقتور ہے کہ اچھی سے اچھی ٹرانسپورٹ بھی نہیں چل سکتی، اس شہر میں مافیاز کا جال بچھا ہوا ہے یہاں تک کہ پارکنگ کی مافیا بھی ہے، کراچی میں آج تک کوئی میگا پراجیکٹ کامیاب نہیں ہوا کیونکہ یہ مافیاز اسے کامیاب نہیں ہونے دیتی ہیں.عمران خان ایسی طاقتور مافیا کی طرف اشارہ کررہے ہیں جس سے وزیراعظم کو خدشہ ہے کہ وہ انہیں گرادے گی اور دوسرے کو لے آئے گی،اس ملک میں طاقت کا سرچشمہ عوام نہیں وہ طاقتور لوگ ہیں جن کے ہر جگہ کارندے موجود ہیں جو سسٹم کو آگے نہیں بڑھنے دے رہے، یہ مافیا اتنی طاقتور ہے کہ وزیراعظم اوراپوزیشن لیڈر دونوں ان کے ہوتے ہیں۔حفیظ اللّٰہ نیازی نے کہا کہ ای سی سی کی جس میٹنگ میں تین لاکھ ٹن گندم درآمد کرنے کا فیصلہ کیا اس بارے میں تین دن پہلے جہانگیر ترین بتاچکے تھے، اس انکشاف پر نیب سمیت کسی قسم کا کیس ہوسکتا ہے جس میں وزیراعظم کو بھی نامزد کیا جاسکتا ہے کیونکہ جہانگیر ترین ان کی بغل میں رہتے ہیں۔

موضوعات:



کالم



مرحوم نذیر ناجی(آخری حصہ)


ہمارے سیاست دان کا سب سے بڑا المیہ ہے یہ اہلیت…

مرحوم نذیر ناجی

نذیر ناجی صاحب کے ساتھ میرا چار ملاقاتوں اور…

گوہر اعجاز اور محسن نقوی

میں یہاں گوہر اعجاز اور محسن نقوی کی کیس سٹڈیز…

نواز شریف کے لیے اب کیا آپشن ہے (آخری حصہ)

میاں نواز شریف کانگریس کی مثال لیں‘ یہ دنیا کی…

نواز شریف کے لیے اب کیا آپشن ہے

بودھ مت کے قدیم لٹریچر کے مطابق مہاتما بودھ نے…

جنرل باجوہ سے مولانا کی ملاقاتیں

میری پچھلے سال جنرل قمر جاوید باجوہ سے متعدد…

گنڈا پور جیسی توپ

ہم تھوڑی دیر کے لیے جنوری 2022ء میں واپس چلے جاتے…

اب ہار مان لیں

خواجہ سعد رفیق دو نسلوں سے سیاست دان ہیں‘ ان…

خودکش حملہ آور

وہ شہری یونیورسٹی تھی اور ایم اے ماس کمیونی کیشن…

برداشت

بات بہت معمولی تھی‘ میں نے انہیں پانچ بجے کا…

کیا ضرورت تھی

میں اتفاق کرتا ہوں عدت میں نکاح کا کیس واقعی نہیں…