منگل‬‮ ، 10 فروری‬‮ 2026 

سانحہ تیزگام کی انکوائری رپورٹ میں وزیر ریلوے کا دعویٰ جھوٹا ثابت، آگ کیسے لگی حقیقت سامنے آ گئی

datetime 29  جنوری‬‮  2020 |

کراچی(این این آئی)سانحہ تیزگام کی انکوائری رپورٹ نے وزیر ریلوے شیخ رشیدکا دعوی جھوٹا ثابت کر دیا۔ 30اکتوبر کو ہونے والا حادثہ گیس سلنڈر پھٹنے سے نہیں،شارٹ سرکٹ کے باعث ہوا۔تفصیلات کے مطابق چیف ایگزیکٹواور سابق وفاقی انسپکٹر آف ریلویز دوست علی لغاری کی جانب سے تیزگام حادثے کی انکوائری رپورٹ مرتب کی گئی ہے جس میں انکشاف کیا گیا کہ 30اکتوبر کو ہونے والا حادثہ گیس سلنڈر پھٹنے سے نہیں بلکہ شارٹ سرکٹ کی وجہ سے ہوا،

ٹرین میں آگ کچن پورشن میں الیکٹریکل کیٹل کی ناقص وائرنگ کی وجہ سے لگی،12نمبر بوگی میں الیکٹرک سپلائی بوگی نمبر 11سے غیر قانونی طریقے سے لی گئی تھی اور تار میں ناقص جوڑ اور ہیٹ اپ ہونے کی وجہ سے شارٹ سرکٹ ہوا۔انکوائری رپورٹ میں کہا گیاہے کہ شارٹ سرکٹ ہونے سے دروازے کے پاس پڑے مسافروں کے سامان میں آگ لگی اور وائرنگ متاثر ہونے سے پوری بوگی میں شدید دھواں بڑھ گیا،آگ نے بوگی نمبر12 کی تمام وائرنگ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا،بوگی میں مسافروں کے سامان کے ساتھ گیس سلنڈر بھی موجود تھا،ٹرین میں آگ بجھانے والی آلات کی کمی کے باعث موقع پر قابو نہیں پایا جا سکا۔انکوائری رپورٹ میں ڈپٹی ڈی ایس، کمرشل آفیسر، ایس ایچ او، ڈائننگ کار کے ٹھیکیدار، ویٹرز،ہیڈ کانسٹیبل، ریزرویشن اسٹاف کو حادثے کا ذمہ دار قرار دیا گیا ہے۔ذمہ داروں میں ڈائننگ کار کے منیجر محمد آصف، ویٹر عبدالستار، افتخار احمد،ہیڈکانسٹیبل علی جان،محمد نسیم، کانسٹیبل محمد ارشد، جہانگیر حسین، ریزرویشن اسٹاف عامر حسین شامل ہیں اس کے علاوہ ڈپٹی ڈی ایس کراچی جمشید عالم، ڈویژنل کمرشل آفیسر جنید اسلم، ریزرویشن کلرک محمد ندیم،ایس ایچ او حیدر آباد طارق علی لغاری، ایس ایچ او خانپور امداد علی پر بھی حادثے کی ذمہ دار ی عائد کی گئی ہے۔انکوائری رپورٹ میں بتائے گئے ذمہ داروں کو پہلے ہی عہدے سے ہٹایا جا چکا ہے جبکہ سیکرٹری ریلوے حبیب الرحمن گیلانی نے انکوائری رپورٹ کی منظوری دے دی ہے۔واضح رہے کہ 30اکتوبر2019 کو کراچی سے راولپنڈی جانے والی تیز گام ایکسپریس میں آگ بھڑکنے کے نتیجے میں 76 مسافر جاں بحق اور 90 سے زائد زخمی ہوگئے تھے۔



کالم



بسنت کے معاملے میں


یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…