بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

حکومت کا بی آئی ایس پی سے مستفید افسران کے نام منظر عام پر لانے کے فیصلے پر بھی یوٹرن ، حکومت نے رقم لینے والے افسران کے نام صیغہ راز میں رکھنے کا فیصلہ کیا ہے، سینیٹ قائمہ کمیٹی ترقی یافتہ علاقہ جات میں انکشاف

datetime 28  جنوری‬‮  2020 |

اسلام آباد(آن لائن) حکومت نے بینظیرانکم سپورٹ پروگرام سے مستفید افسران کے نام منظر عام پر لانے کے فیصلے پر بھی یوٹرن لے لیا۔سینیٹر عثمان کاکڑ کی زیر صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے ترقی یافتہ علاقہ جات کا اجلاس ہوا جس میں بینظیرانکم سپورٹ پروگرام سے مستفید افسران کی رپورٹ پیش کی گئی۔ اجلاس میں انکشاف ہوا کہ حکومت نے رقم لینے والے افسران کے نام صیغہ راز میں رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

چیئرمین کمیٹی عثمان کاکڑ نے پوچھا کہ بسپ سے فائدہ لینے والے افسران کے عہدے سمیت تمام تفصیلات بتائی جائیں اور انہوں نے مجموعی طور پر کتنی رقم لی؟: وزیراعظم کا انکم سپورٹ پروگرام سے مستفید افسران کے نام عوام کے سامنے لانے کا حکم سیکرٹری سوشل پروٹیکشن اینڈ پاورٹی ایلی ویئشن ڈویڑن نے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ گریڈ سترہ سے اکیس تک 2548 سرکاری ملازمین پر بی آئی ایس پی سے رقم لینے کا الزام ہے، نوے کے قریب افسران کے شناختی کارڈ غلطی سے سروے میں شامل ہوگئے، ایک سو پچاس کے قریب افسران کو ڈاک خانے کے ذریعے رقم دی گئی جس کی تحقیقات ہو رہی ہے کہ کیا واقعی رقم ان افسران نے لی، 2080 افسران نے انگوٹھا لگا کر رقم لی ہے جن سے متعلق کوئی شک نہیں کہ انہوں نے رقم نہیں لی ہوگی بریفنگ میں کہا گیا کہ پروگرام سے رقم لینے والے افسران کی فہرست تیار کر لی گئی ہے اور ان کے نام چیف سیکرٹریز کو بھجوا دیئے ہیں اور ان کے خلاف کارروائی کا کہا گیا ہے، افسران کے نام پبلک نہیں کئے جا سکتے، نام میڈیا پرلاکر انہیں بدنام کرنا مناسب نہیں۔قائمہ کمیٹی نے کہا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام میں پچاس فیصد پوسٹیں خالی ہیں، تمام پوسٹوں پر جلد سے جلد بھرتیاں کی جائیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…