بدھ‬‮ ، 10 جون‬‮ 2026 

میر ے خلاف سازش ہوئی ،آئی جی سندھ نے اپنے تبادلے کی تردید کر دی‎

datetime 28  جنوری‬‮  2020 |

کراچی (این این آئی)آئی جی سندھ سید کلیم امام نے اپنے تبادلے کی افواہوں کی تردید کی ہے اور سندھ حکومت کو للکارا ہے کہ ان کے خلاف بڑی سازش ہوئی ہے، وہ اتنی آسانی سے جانے والے نہیں ہیں اور اگر گئے تو سوا لاکھ کے رہیں گے۔وہ سینٹرل پولیس آفس میں شہدائے سندھ پولیس کی یادگار کے افتتاح کی تقریب سے خطاب کررہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ پولیس کے بعض حلقوں کی جانب سے

سندھ پولیس کے شہدا کی یادگار کے افتتاح کی یہ تقریب ان کی الوداعی تقریب قرار دی جا رہی ہے حالانکہ ایسا ہرگز نہیں۔آئی جی سندھ سید کلیم امام نے اپنے تبادلے کی خبر کی تردید کی اور کہا کہ ’’میرا تبادلہ اتنی آسانی سے ہونے والا نہیں ہے‘‘کہ میں جاوں گا تو اپنے مقدر سے جاوں گا۔ جب جاوں گا تو کسی بڑی جگہ یا نئے مراحل پرجاوں گا۔ یہ افتتاحی تقریب تھی جسے میری الوداعی پارٹی سے منسوب کردیا گیا۔انہوں نے کہا کہ سندھ پولیس والے شاید میری الوداعی پارٹی کے پیسے بچانا چاہ رہے ہیں۔‎اگر میرا تبادلہ ہوگیا تو بھی ہاتھی سوا لاکھ کا ہی رہوں گا۔انہوںنے کہا کہ ہم تمام پولیس افسران قانون کے تحت کام کرتے ہیں، قانون نافذ کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو راہ میں رکاوٹیں بھی پیش آتی ہیں۔آئی جی سندھ نے کہا کہ ہم نے جتنا کام بھی کیا یہ سب ٹیم ورک کا نتیجہ ہے، مجھ سے پہلے بھی بہت اچھے آئی جی رہے ہیں، یہاں جتنے پولیس افسران بیٹھے ہیں سب غازی ہیں، اپنی سروس میں ایسے دن بھی دیکھے جب کلمہ پڑھ لیا تھا کہ آج آخری دن ہے۔اپنے خطاب میں انہوں نے  مزید کہا کہ ہمیں اپنے شہدا کو یاد رکھتے ہوئے قانون پر عملدرآمد کرانا ہے، انہوں نے کہا کہ ہم رولز اور ریگولیشن کے تحت کام کرتے ہیں، یہ ذمہ داری آپ پر آتی ہے کہ چیزیں آپ نے ٹھیک کرنی ہیں، مشکلات آئیں گی مگر گھبرانا نہیں۔آئی جی سندھ سید کلیم امام نے سینٹرل پولیس آفس میں یاد گار شہدا کا افتتاح خود کرنے کی بجائے

وہاں موجود مدعو کی گئیں شہدا کی فیملیز سے کرایا۔آئی جی سندھ ڈاکٹر سید کلیم امام نے شہدا کی فیملیز کو افتتاح کا موقع دیا۔ یادگار شہدا کے علاوہ سینٹرل پولیس آفس میں بھی تزئین و آرائش کا کام مکمل ہوچکا ہے۔ ڈی آئی جی آپریشن مقصود احمد میمن نے ترقیاتی کام کی نگرانی کی۔انہوں نے بتایا کہ چھ ماہ کے قلیل عرصہ میں یادگار شہدا قائم کی گئی ہے۔ سندھ پولیس کے ایڈیشنل آئی جیز ڈی آئی جیز

ایس ایس پیز اور دیگر افسران بھی تقریب میں شریک تھے۔ڈی آئی جی مقصود میمن نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ 2188 شہدا کے نام دیوار پر درج کئے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ آج کراچی میں جو امن ہے اس میں شہدا کی قربانیاں شامل ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بے امنی کے حوالے سے کراچی دنیا میں ساتویں نمبر سے آٹھاسیویں نمبر پر آچکا ہے۔پولیس کی بلڈنگ جب سے بنی تھی کسی بڑے ادارے کی طرح نہیں تھی لیکن اب آئی جی کلیم امام کی ہدایات پر تزین آرائیش کی گئی۔ آئی جی سندھ کے احکامات پر تھانوں کی حالت بہتر کرنے کے لئے پندرہ پندرہ لاکھ روپے جاری کئے۔‎

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



8 بجے تک


میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…