بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

 ٹرانسپرنسی انٹر نیشنل کی رپورٹ سے عوام میں مایوسی  پھیل گئی ، سرمایہ کار بھی پریشان ، معیشت مستحکم کرنے کیلئے حکومت کو کیا کرنا ہو گا ؟ مشورہ دیدیا گیا

datetime 26  جنوری‬‮  2020 |

لاہور( این این آئی )کرپشن کی کی شکایات پر فوری کارروائی کیلئے تمام اداروں میں خصوصی کائونٹر زقائم کئے جائیں ،چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریو نیو کا ٹیکس سسٹم کی تباہی کی جانب گامزن ہونے کا بیان لمحہ فکریہ ہے ، حکومت کے اپنے ادارے ٹیکس آمدن میں اضافے کی راہ میں خود سب سے بڑی رکاوٹ ہیں،ٹیکس بارز حکومت کو جامع پالیسی کی تیاری کیلئے معاونت دینے کے لئے ہر وقت تیار ہیں۔

ان خیالات کا اظہار پاکستان ٹیکس فورم کے چیئرمین ذوالفقار خان نے ٹیکس نظام کے حوالے سے منعقدہ مذاکرے میں خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر سوال و جواب کا سیشن بھی ہوا ۔ ذوالفقار خان نے کہا کہ ٹرانسپرنسی انٹر نیشنل کی رپورٹ سے عوام میں مایوسی کی لہر دوڑ گئی ہے جبکہ ٹیکس دہندگان اور سرمایہ کاروں میں تشویش پھیلی ہے ، اگر یہ رپورٹ حقائق کے برعکس ہے تو حکومت کو اس کا فی الفور نوٹس لے کر کارروائی کرنی چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ دیگر تنظیموں کے ساتھ مل کر ٹیکس آگاہی مہم شروع کر رکھی ہے جس کا مقصد ٹیکس دینے کی استطاعات رکھنے والوں کو ٹیکس دینے کیلئے راغب کرنا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ حکومت کے ٹیکسیشن کے نظام میں پائے جانے والے سقم کی نشاندہی بھی کی جاتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ چیئرمین فیڈرل بورڈ ریو نیو کا بیان کہ ٹیکس سسٹم تباہی کی جانب گامزن ہے لمحہ فکریہ ہے ، جب تک ٹیکس کانظام درست نہیں ہوگا ہماری معیشت ایسے ہی سسکتی رہے گی اور ہم ہر تین سے پانچ سال بعد عالمی مالیاتی اداروں کے در پر کشکول اٹھائے کھڑے ہوں گے۔حکومت قرضوں اور سود سے بچنے کیلئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرے ، نظام پر عوام کا اعتماد بحال کیا جائے تاکہ انہیں یقین ہو سکے کہ ان کا دیا ہوا ٹیکس کا پیسہ غلط جگہ پر خرچ نہیں ہوگا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…