عالمی عدالت انصاف کا روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی کیخلاف فیصلہ ، فیصلہ دنیا کے ظالم حکمرانوں کے منہ پر طمانچہ ہے، پاکستان اب یہ کام کرے، رحمان ملک نے کشمیر سے متعلق اہم مشورہ دیدیا

  ہفتہ‬‮ 25 جنوری‬‮ 2020  |  23:30

اسلام آباد(آن لائن) پاکستان پیپلزپارٹی کے سینئر رہنما وسینیٹر رحمان ملک نے کہا ہے کہ عالمی عدالت انصاف نے میانمار روہنگیا کے مسلمانوں کی نسل کشی کے خلاف فیصلہ دے دیا ہے۔اور یہ فیصلہ دنیا کے ظالم حکمرانوں کے منہ پر تماچہ ہے اور یہ وقت ہے کہ اب پاکستان بھی تمام ثبوتوں کے ساتھ مظلوں کشمیریوں کا مقدمہ عالمی عدالت انصاف میں لے کر جائے کیونکہ مودی کے کشمیر میں مظالم آنگ سان سوچی سے بھی کئی گنا زیادہ ہیں۔جن بنیادوں پر میانمار حکمرانوں کے خلاف فیصلہ آ چکا وہی سب کشمیر میں ہو رہا ہے میں ہر فورم


پر حکومت سے مودی مظالم کے خلاف عالمی عدالت انصاف میں جانے کی اپیل کر چکا ہوں۔ٹرانسپرنسی انٹرنیشل کی رپورٹ پر از خود نوٹس لے چکا ہوں کہ پاکستان کا درجہ 117 سے بڑھ کر 120 ہو گیا ہے۔اگر حکومت کشمیر کے مسئلے پر عالمی عدالت انصاف میں نہیں جائے گی تو ہم کشمیر یوں کے ساتھ کھڑے ہوں گے مودی کبھی پاکستان پر حملے کرنے کی جرات نہیں کرسکے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ میں نے آج دوبارہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو مودی مظالم کے خلاف عالمی عدالت انصاف میں جانے کے حوالے سے خط لکھا ہے۔عالمی عدالت انصاف نے میانمار کے حکمران آنگ سان سوچی کو روہنگیا قتل عام کا مجرم قرار دیا ہے اور ہم اس فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ عالمی عدالت انصاف کا روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی کے خلاف فیصلہ دینا۔ دنیا کے ظالم حکرانوں کے منہ پر تمانچہ ہے۔روہنگیا کے مسلمانوں کو انصاف دلانے پر گیمبیا کے وزیر قانون ابو بکر کو زبردست خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔اس فیصلے کے بعد آنگ سان سوچی اب دنیا کے سامنے سر اٹھانے کے قابل نہیں رہی اس لئے اب وقت ہے پاکستان بھی مظلوم کشمیریوں کا مقدمہ عالمی عدالت انصاف میں لے کر جائے۔میں پہلے بھی کہ چکا ہوں کیس میں جان ہے جو روہنگیا کے مسلمانوں کے حق میں ہو گیا ہےاگر دنیا کاغریب ملک گمیبیا آئی سی جے میں جا سکتا ہے تو کیا پاکستان اپنے کشمیر بہن بھائیوں کے لئے نہیں جا سکتا ہمیں کشمیریوں پر ہونے والے مظالم کے خلاف ہر حال میں عالمی عدالت انصاف میں جانا چاہئے کیونکہ مودی کے مظالم آنگ سان سوچی سے بھی کئی گنا زیادہ ہیں جن بنیادوں پر میانمار حکمرانوں کے خلاف فیصلہ آ چکا ہے اس سے کئی زیادہ ظلم کشمیر میں ہو رہا ہے ہمیں گیمبیا کا میانمار کے خلاف دائر ریفرنس سے رہنمائی لے کر فوری طور پر مودی کے مظالم کے خلاف عالمی عدالتوں میں جانا چاہئےاور میں اس حوالے سے حکومت سے ہر فورم پر اپیل کر چکا ہوں کشمیر میں بھارتی کرفیو کے ظلم و ستم کے 174 دن پورے ہو چکے ہیں لیکن اب تک مظلوم کشمیریوں کو کوئی ریلیف نہیں مل سکا۔وزیراعظم عمران خان سے اپیل ہے کہ یوم یکجہتی کشمیر پر عالمی عدالت انصاف میں مودی کے خلاف مقدمہ درج کروائیں رحمان ملک نے کہا ہے کہ ٹرانسپرنسی انٹرنیشل کی رپورٹ پر میں از خود نوٹس لے چکا ہوں۔پریشانی اس بات کی ہے کہ زیادہ کرپشن والے ملک میں پاکستان کا درجہ 117 سے بڑھ 120 ہو گیا ہے۔وزارت داخلہ کو ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کے ساتھ مل کر بد عنوانی کی درجہ بندی کے طریقہ کار پر رپورٹ مرتب کرنی چاہئےپچھلے تین سالوں میں بد عنوانی کی درجہ بندی کے لئے ٹرانسپرنسی انٹرنیشل نے پاکستان کے کن کن اداروں کی جانچ پڑتال کی ہے۔ اور ان تین سالوں میں کرپشن پر سپیل انڈیکس اشاریوں کی تفصیلات کمیٹی کے رو برو پیش کی جانیں چاہئے پاکستان میں ٹرانسپر نسی انٹرنیشل کے عہداروں کو جلد سینیٹ کی داخلہ کمیٹی کے اجلاس میں دعوت دی جائے گی یوم کمشیر پر عمران خان سب پارٹیوں کو اکٹھا کریں۔اور اس حوالے سے میری تین تجاویز ہیں کہ حکومت پاکستان، آزاد کشمیر حکومت یا تحریک آزادی کی تنظیمیں مودی کے مظالم کے خلاف کیس دائر کر سکتی ہیں اگر حکومت عالمی عدالت میں نہیں جائے گی ہم کشمیریوں کے لئے عالمی عدالت انصاف میں کھڑے ہوں گے۔مودی پاکستان پر حملہ کرنے کی کبھی بھی جرات نہیں کر سکتا۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

سرعام پھانسی

مجھے چند سال پہلے اپنے ایک دوست کے ساتھ اس کے گاﺅں جانے کا اتفاق ہوا‘ یہ پنجاب کے ایک مشہور گاﺅں کے چودھری ہیں‘ میں ان کے مہمان خانے میں ٹھہرا ہوا تھا‘ سردیوں کے دن تھے‘ میں صبح اٹھا تو مہمان خانے کے صحن میں پنچایت ہو رہی تھی‘میں نے کھڑکی کھولی اور کارروائی دیکھنے لگا‘ ....مزید پڑھئے‎

مجھے چند سال پہلے اپنے ایک دوست کے ساتھ اس کے گاﺅں جانے کا اتفاق ہوا‘ یہ پنجاب کے ایک مشہور گاﺅں کے چودھری ہیں‘ میں ان کے مہمان خانے میں ٹھہرا ہوا تھا‘ سردیوں کے دن تھے‘ میں صبح اٹھا تو مہمان خانے کے صحن میں پنچایت ہو رہی تھی‘میں نے کھڑکی کھولی اور کارروائی دیکھنے لگا‘ ....مزید پڑھئے‎