جمعرات‬‮ ، 04 جون‬‮ 2026 

زینب الرٹ بل میں پھانسی کی سزا تھی، بعض پارٹیوں نے مخالفت کی، اسد عمر ننھی زینب کی برسی پر اس کے گھر پہنچ گئے

datetime 24  جنوری‬‮  2020 |

قصور (این این آئی) وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی اور خصوصی اقدامات اسد عمر نے کہا ہے کہ حکومت کے مجوزہ زینب الرٹ بل میں مجرم کے لیے پھانسی کی سزا رکھی گئی تھی جس کی بعض سیاسی جماعتوں نے مخالفت کی تاہم وہ خود اس سزا کی حمایت کرتے ہیں۔

قصور میں زیادتی کا شکار ہونے والی بچی زینب کی دوسری برسی کے موقع پر وفاقی وزیر اسد عمر ان کے گھر پہنچے اور اہل خانہ سے ملاقات کی۔ اس موقع پر میڈیا سے گفتگو میں اسد عمر کا کہنا تھا کہ حکومت کے مجوزہ زینب الرٹ بل میں پھانسی کی سزا تھی تاہم بعض پارٹیوں نے پھانسی کی سزا کی مخالفت کی لیکن وہ ایسے کیسز میں پھانسی کی سزا کی حمایت کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ریاستی نظام کی اس سے بڑھ کر اور کوئی خوش قسمتی نہیں ہو گی کہ معصوم بچوں کے لیے یہ بل پاس ہوا، وفاق کے بعد تمام صوبوں میں بھی زینب الرٹ بل منظور کرائیں گے، تمام اداروں کو مل کر کام کرنا ہو گا تاکہ کمسن بچوں سے زیادتی کے واقعات رک سکیں، عدلیہ، پولیس اور پورا پاکستان اگر اس پر متفق ہو جائے تو ایسے واقعات پر قابو پایا جا سکتا ہے۔وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ عوام اور پولیس کے درمیان اعتماد کا رشتہ نہیں، ایسا لگتا ہے ایک دوسرے کے حریف ہیں لیکن یقین ہے وزیراعظم عمران خان پولیس بہتر کر کے دکھائیں گے، پولیس نظام کا ٹیسٹ ہے کہ غریب اوراس کا بچہ محفوظ ہو۔انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے نئے آئی جی سے ملاقات ہوئی ہے، ان کی ابتدائی پرفارمنس پر وزیراعظم عمران خان مطمئن ہیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ اپوزیشن اور حکومت کی ایک دوسرے پر تنقید جمہوریت کا حصہ ہے، ہمیں ریاست کی ضرورت اس لیے ہے کہ کمزورکی حفاظت کی جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کوبا مایان


کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون (Cancun) میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…