پاکستان ایشیاء کا ٹائیگر بنے گا اور کوئی طاقت  روک نہیں سکتی ، چین نے دھماکے دار اعلان کر دیا

  منگل‬‮ 21 جنوری‬‮ 2020  |  20:22

کراچی (این این آئی) سی پیک منصوبہ پاکستان کی ترقی کیلئے سنگ میل ثابت ہوگا، پاکستان ایشیاء کا ٹائیگر بنے گا ۔ اس سے یہاں آنے والی خوشحالی کو کوئی طاقت نہیں روک سکتی، اور اس کی راہ میں آنے والی تمام رکاوٹیں دور ہوجائیں گی، ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت اس کو ناکام بنانے کی کوشش کی جارہی ہے، اس سلسلے میں میڈیا کو بھی اپنا کلیدی کردار ادا کرنا ہوگا۔ ان خیالات کااظہارچین کے قونصل جنرل  لی بیجان(Mr. Li. Bijian) نے کراچی ایڈیٹر کلب کے پروگرام میٹ دی ایڈیٹر کے موقع پر شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے


کیا۔ اس موقع پر کلب کے عہدیدار مبشر میر، منظر نقوی نے بھی خطاب کیا۔ اس کے علاوہ کرنل (ر) مختار بٹ، ابن اسد، مختار عاقل، فضاء شکیل، حسینہ جتوئی، آغا مسعود ، نعیم الدین ، قاضی اسد عابد، حبیب خان غوری، جمیل خان غوری بھی شرکت کی۔ چینی قونصل جنرل نے کہا کہ سی پیک ایک ایسا پروجیکٹ ہے جو دنیا میں شاید ہی کسی نے شروع کیا ہو۔ اس کے اندر 17ممالک شریک ہونگے اور انہیں فائدہ ہوگا ۔ انہوں نے کہا کہ یہ 8 ٹریلین ڈالرز کا منصوبہ ہے جس کے ذریعے انفراسٹرکچر اس علاقے میں ڈیویلپ کیا جائے گا۔ کچھ لوگ اس منصوبے سے خوش نہیں ہیں اور وہ اس کی مسلسل مخالفت کررہے ہیں، اس کے لیے پاکستان کو چاہیے  کہ وہ اس کا جواب میڈیا کے ذریعے دیں اور پوری دنیا کو بتائیں کہ یہ منصوبہ پاکستان کیلئے کتنی اہمیت کا حامل ہے اور  اس کے کوئی نقصانات نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں آپ کو بتاؤں کہ جب ساؤتھ امریکہ میں پانامہ کینال تعمیر ہوئی تھی اس منصوبے کے لیے اس وقت امریکہ نے 374 ملین ڈالر دیئے تھے، اس وقت پانامہ کا جی ڈی پی 60% تھا۔ پاکستان کی مناسبت سے یہ بہت بڑی رقم ہے، جو لوگ تنقید کررہے ہیں، میں یہی کہوں گا وہ ٹھیک طریقے سے اس منصوبے کے بارے میں آگاہ نہیں ہیں۔انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے عوام بخوبی سمجھتے ہیں کہ اس منصوبے سے کئی ممالک استفادہ حاصل کریں گے اور منصوبہ دنیا کے اہم ترین منصوبوں میں شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین نے گوادر میں 3ہزار میگا واٹ کا پاور پروجیکٹ شروع کررہا ہے جس سے توانائی کی قلت کو ختم کرنے کا موقع ملے گا ۔ دوسرا منصوبہ یہ ہے کہ سمندری پانی کو میٹھا کرنے کیلئے پلانٹ لگایا جارہا ہے جس سےاس علاقے میں پانی کی قلت دور ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ گوادر پاکستان کا ایک اہم جز ہے ، ہم یہاں کے نوجوانوں کو فنی تربیت دینے کیلئے ایک بڑا انسٹیٹیوٹ بھی قائم کررہے ہیں، تاکہ یہاں کا نوجوان تربیت یافتہ ہو کر علاقے کی ترقی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے سکے اور ان کو انہی کے علاقے میں روزگار مہیا ہو۔ انہوں نے کہا کہ  مزید جو منصوبے اس علاقے میں شروع ہوئے ہیں، یہ تربیت یافتہ نوجوان اپنا کردارادا کرسکیں گے۔ جب اس علاقے میں خوشحالی آئے گی تو اس کے اثرات ملک کی معیشت پر بھی مثبت نظر آئیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ایک پروپیگنڈہ یہ کیا جارہا ہے کہ اس علاقے میں جو 3000 ہزار میگا واٹ کا جو پاور پلانٹ لگارہے ہیں ، اس کے بارے میں کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ  اس سے انوائرمنٹ خراب ہوگا، اس سے کوئی ماحولیات کی خرابی نہیں آئے گی، ہم صحافی حضرات کو اسجگہ کا دورہ ضرور کرائیں گے۔ اور آپ ان سے اندازہ لگاسکیں گے کہ یہ منفی پروپیگنڈہ ہے ۔ جو لوگ سی پیک منصوبے کی مخالفت کررہے ہیں ، وہ نہیں چاہتے کہ پاکستانی معاشی طور پر مستحکم ہو۔ انہوں نے کہا کہ جب اس علاقے میںبجلی کی پیداوار ہوگی تو آپ سمجھ سکتے ہیں کہ یہاں کس قدر صنعتیں کام کریں گی، جس سے خوشحالی کے نئے سفر کا آغاز ہوگا اور سی پیک اس علاقے کی قسمت بدل دے گااور غربت کا  خاتمہ ہوگا۔ قبل ازیں تقریب سے  اے پی این ایس کے سیکریٹری جنرل سید سرمد علی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاک چائنا تعلقات تاریخی حیثیت رکھتے ہیں اور ان میں ہمیشہ اضافہ ہوتا رہتا ہے، اس میں کوئی شک نہیں کہ چین نے ہمیشہ ہمارے اچھے برے وقت میں مدد کی ہے اور ایک اچھے دوست کا کردار ہمیشہ ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سنگل لارجسٹ انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ کی ہےجو کہ پورے خطے میں اہمیت کی حامل ہے، اور یہ سی پیک منصوبہ بھی انتہائی اہمیت کا حامل ہے اس منصوبے سے پاکستای معیشت کو فائدہ پہنچے گا جس کا اندازہ لگانا مشکل ہے ، میں نے   متعدد بار چین کا دورہ کیا اور اس ملک کی ترقی کو انتہائی قریب سے دیکھا ہے۔ چین نے پوری دنیا  میں اپنی ترقی کا لوہا منوایا ہے۔ 8 ٹریلین ڈالرز کا منصوبہ ہے جس سے دنیا کے کئی ممالک کو فائدہ پہنچنے گا۔جو بڑی انویسٹمنٹ ہے۔ اس سے پاکستان کی ڈوبتی  معیشت کو سہارا  ملے گا۔ سڑکوں کے جال کے ساتھ ساتھ لوگوں کے آپسی روابط میں اضافہ ہوگا، دونوں ممالک کے میڈیا کے درمیان رابطے بڑھیں گے، دونوں ممالک کی ثقافتوں کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملے گا، انہوں نے مزید کہا کہ کچھ لوگوں کی جانب سے اس منصوبے پر ابہام پیدا کیا جارہا ہے جو کہ مناسب نہیں ہے، منصوبے کو نقصان پہنچان ارض پاک کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے۔ کلب کے صدر مبشر میر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہہمارا پڑوسی ملک چین اس وقت خطے میں ایک اہم رول ادا کررہا ہے ،جو وقت کا کا تقاضہ ہے، ہماری خوش قسمتی ہے کہ ہمارا بہترین دوست ، بہترین ہمسایہ ہے۔ اور اس کی دوستی ہمالیہ کی بلندیوں سے زیادہ ہے ۔ سی پیک کا پہلا فیز مکمل ہوچکا ہے اور اب ہم الحمد ﷲ دوسرے فیز میں داخل ہوچکے ہیں۔ گواردر پورٹ تیزی سے تکمیل کے مراحل میں ہے۔ پاکستان کی عوام چین کی اس لازوال دوستی کوکبھی فراموش نہیں کرسکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی ایڈیٹرز کلب نے چیسن کی کمیونسٹ پارٹی کی 97ویں سالگرہ کراچی میں منائی اور اس سلسلے میں ایک سیمینار کا انعقاد بھی کیا تھا۔ ہمارا کلب اکثرواقات مختلف تقاریب کا انعقاد کرتا رہتا ہے۔ 2017 میں صحافی ویلفیئر ایسوسی ایشن کی جان بسے سی پیک منصوبے پر ایک پروگرام کراچی کے مقامی ہوٹل میں منعقد کیا گیا تھا ، جس میں بڑی تعداد میںمتعلقہ لوگوں نے شرکت کی۔   کلب کے سیکریٹری جنرل منظر نقوی نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں نے چین کے سفر کے بعد دو کتابیں تحریر کی ہیں ، اور سی پیک منصوبے پر کالم بھی لکھتا رہا ہوں۔ مجھے قوی امید ہے کہ  اس منصوبے پر تنقید کرنے والے جب پاکستان معیشت پر اس کے اثرات کو نمایاں ہوتا ہوا دیکھیں گےتو وقت ان کو خاموش کردے گا۔ میں نے چین کی بڑھتی ہوئی ترقی کا راز ان کے آپسی اتحاد، لگن اور سخت محنت میں دیکھا ہے ۔ آخر میں کلب کے نائب صدر کرنل (ر) مختار عاقل نے معزز مہمان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ان کو سندھ کا روایتی تحفہ اجرک اور سندھی ٹوپی پیش کی۔ اس موقع پر چینی قونصل جنرل نے مختار عاقل کی سالگرہ کی مبارکباد پیش کی۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

قاسم پاشا کی گلیوں میں

آیا صوفیہ کے سامنے دھوپ پڑی تھی‘ آنکھیں چندھیا رہی تھیں‘ میں نے دھوپ سے بچنے کے لیے سر پر ٹوپی رکھ لی‘ آنکھیں ٹوپی کے چھجے کے نیچے آ گئیں اور اس کے ساتھ ہی ماحول بدل گیا‘ آسمان پر باسفورس کے سفید بگلے تیر رہے تھے‘ دائیں بائیں سیکڑوں سیاح تھے اور ان سیاحوں کے درمیان ....مزید پڑھئے‎

آیا صوفیہ کے سامنے دھوپ پڑی تھی‘ آنکھیں چندھیا رہی تھیں‘ میں نے دھوپ سے بچنے کے لیے سر پر ٹوپی رکھ لی‘ آنکھیں ٹوپی کے چھجے کے نیچے آ گئیں اور اس کے ساتھ ہی ماحول بدل گیا‘ آسمان پر باسفورس کے سفید بگلے تیر رہے تھے‘ دائیں بائیں سیکڑوں سیاح تھے اور ان سیاحوں کے درمیان ....مزید پڑھئے‎