گندم کی ذخیرہ اندوزی کے ساتھ ساتھ سمگلنگ کا معاملے بھی سامنے آ گیا، کتنے ہزار ٹن ماہانہ گندم سمگل کی جار ہی ہے؟ وفاقی وزیر خود ہی بول پڑے

  اتوار‬‮ 19 جنوری‬‮ 2020  |  19:44

اسلام آباد(این این آئی)وفاقی وزیر برائے غذائی تحفظ و تحقیق نے کہاہے کہ جتنی گندم کی ضرورت ہے وہ پاکستان میں موجود ہے،آٹنے کا مصنوعی بحران آگلے دور وز میں ٹل جائیگا،گندم کی ذخیرہ اندوزی کے ساتھ ساتھ سمگلنگ کا ایشو بھی ہے، ماہانہ چالیس ہزار ٹن گندم سمگل کی جا رہی ہے، اگلے سال اسی لاکھ ٹن کا ٹارگٹ رکھا ہے، اس ٹارگٹ کے بعد کوئی آٹے کی ذخیرہ اندوزی نہیں کرسکے گا۔ میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے وفاقی وزیر خسرو بختیار نے کہاکہ دو تین دن سے آٹے اور گندم کے بحران کا تاثر دیا جا رہا ہے،


اس وقت پاکستان میں گندم کی جتنی ضرورت ہے وہ گندم پاکستان میں موجود ہے، چالیس لاکھ ٹن گندم اس وقت پبلک سیکٹر میں حکومت کے پاس ہے۔خسرو بختیار نے کہاکہ اگلے سال کا ہمارا ٹارگٹ ستائیس ملین پیداوار ہے، مربوط منصوبہ سازی کے تحت گندم کے لئے تیس ارب کا پیکج ہے۔ خسرو بختیار نے کہاکہ موجودہ حکومت نے گندم کا ریٹ تیرہ سو سے تیرہ سو ساٹھ بڑھائی، گزشتہ ایک ہفتے میں مصنوعی بحران پیدا ہوا، گندم کی سپلائی چین ڈسٹرب ہونے کے بعد بحران آیا۔خسرو بختیار نے کہاکہ کل نو ہزار ٹن سندھ گورنمنٹ کو دی گئی ہے، آج دس ہزار ٹن گندم سندھ کو دی جائیگی۔ خسرو بختیار نے کہاکہ کراچی اور ملحقہ علاقوں کی روزانہ چھ ہزار ٹن گندم ضرورت ہے، سندھ نے اس سال گندم ذخیرہ نہیں کی۔ خسرو بختیار نے کہاکہ سندھ کی سات لاکھ ٹن گندم ذخیرہ کرنے کی ذمہ داری تھی، پیر سے ملک بھر میں گندم اور آٹے کی قیمت میں کمی آنا شروع ہوجائے گی۔ انہوں نے کہاکہ کے پی کے کے لئے چار سے پانچ ہزار ٹن سپلائی بڑھا دی گئی ہے، پیر سے کے پی کے کو دس ہزار ٹن کی سپلائی جائے گی۔ خسرو بختیار نے کہاکہ پاسکو نے ساڑھے چار لاکھ ٹن گندم کے پی کے کے لئے مختص کی تھی، اڑھائی لاکھ ٹن گندم کے پی کے لے چکا ہے، کل کابینہ میٹنگ میں سفارش کریں گے کہ کے پی کے کو ڈیڑھ لاکھ ٹن گندم مزید دی جائے۔ خسرو بختیار نے کہاکہ گندم کی ذخیرہ اندوزی کے ساتھ ساتھ سمگلنگ کا ایشو بھی ہے، ماہانہ چالیس ہزار ٹن گندم سمگل کی جا رہی ہے، گندم کی سمگلنگ پر کنٹرول پایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ رواں سال موسم کے باعث بارہ لاکھ ٹن کم گندم پیداوار ہوئی، گندم امپورٹ کرنے کا فیصلہ بھی کریں گے۔خسرو بختیار نے کہاکہ آٹے اور گندم کا مصنوعی بحران اگلے دو راز میں ٹل جائے گا۔ انہوں نے کہاکہ یوریا کھاد پر جی آئی ڈی سی کے چار سو روپے بھی ختم کیے جا رہے ہیں، پاکستان کی آبادی دو سو سینتالیس میں چالیس کروڑ ہوجائے گی۔ انہوں نے کہاکہ ہمیں ابھی سے زرعی پاکیسیز بنانی پڑیں گی، یہ وقت ایک نئے اکنامک چارٹر کا ہے۔انہوں نے کہاکہ ہم نے اگلے سال اسی لاکھ ٹن کا ٹارگٹ رکھا ہے، اس ٹارگٹ کے بعد کوئی آٹے کی ذخیرہ اندوزی نہیں کرسکے گا، خسرو بختیار نے کہاکہ افغانستان میں گندم کی ٹوٹل ضرورت سات لاکھ ٹن ہے۔انہوں نے کہاکہ ایک ماہ میں چالیس ہزار ٹن گندم افغانستان میں سمگل ہورہی تھی۔

موضوعات: