جمعہ‬‮ ، 20 فروری‬‮ 2026 

وادی نیلم میں برفانی تودہ گر گیا‘ پورا گاؤں اس کے نیچے دفن ہو گیا حکومت اب تک ریسکیو آپریشن کیوں نہ کر سکی؟

datetime 15  جنوری‬‮  2020 |

دنیا میں ڈیزاسٹر‘ قدرتی آفتیں اور موسم ایشو نہیں ہوتے‘ ایشو یہ ہوتا ہے کہ کیا آپ ان کے لیے تیار ہیں یا تیار نہیں ہیں اور ہم بدقسمتی سے من حیث القوم ان کے لیے کبھی تیار نہیں ہوتے چناں چہ ہم گرمیوں میں گرمی‘ سردیوں میں سردی اور برسات میں بارش سے مرتے ہیں اور ہم پانچ ہزار سال سے مر رہے ہیں‘ ہم کتوں کے کاٹنے اور مچھروں سے بھی مر جاتے ہیں اور ہم پانی پی اور کھانا کھا کر بھی مر جاتے ہیں‘ آپ ہماری تیاری کا عالم دیکھیے‘ اسلام آباد کی پہاڑیوں میں ائیر بلیو کا طیارہ گر گیا تھا‘

حکومت اڑھائی گھنٹے تک وہاں نہیں پہنچ سکی‘ راولپنڈی میں بھوجا ائیر لائین کا طیارہ گرا‘ ہمارے پاس ایمبولینس‘ ہسپتالوں میں دوائیں اور لاشوں کے لیے کفن تک نہیں تھے‘ چار دن لاشیں پڑی رہیں‘ کراچی میں دو بار ہیٹ ویو آئی اور یہ پہلی بار 1200 اور دوسری بار 65 زندگیاں لے گئی‘ حکومت کے پاس ایمبولینسز‘ کفن اور تابوت تک نہیں تھے اور کل وادی نیلم میں برفانی تودہ گر گیا‘ پورا گائوںاس کے نیچے دفن ہو گیا‘ حکومت اب تک ریسکیو آپریشن نہیں کر سکی‘ مقامی لوگوں نے 73 لاشیں نکالیں جب کہ بے شمار لاشیں اور جانور ابھی تک برف میں دفن ہیں‘ آپ دیکھ لیں ہمارا عام آدمی بھی ٹرینڈنہیں ہے‘ یہ سرد علاقے میں رہنے کے باوجود یہ نہیں جانتا برفانی تودے کہاں کہاں بن رہے ہیں اور یہ کب سرک سکتے ہیں اور حکومت کو بھی یہ معلوم نہیں کہ اس قسم کا ایشو ہو جائے تواس نے ریسکیو کیسے کرنا ہے‘ کیا قومیں ایسی ہوتی ہیں‘ کیا ملک اس طرح چلتے ہیں‘ ہم بہرحال آج کے ایشو کی طرف آتے ہیں،حکومت ابھی اتحادیوں کی ناراضی سے نہیں نکل سکی اور سندھ بھی بپھر گیا‘ یہ معمولی ایشوز بڑے کیوں ہو رہے ہیں‘ یہ ہمارا آج کا ایشو ہوگا جب کہ حکومت کی اتحادی ق لیگ بھی ناراضگی کے میدان میں اتر آئی‘ یہ کیوں ناراض ہے ہم یہ بھی ڈسکس کریں گے اور حکومت پر عدالتی دبائو بھی آنا شروع ہو گیا‘ ہم اس پر بھی بات کریں گے‘ ہمارے ساتھ رہیے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



رعونت پر بکھری ہوئی خاک


کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…