اتوار‬‮ ، 06 اپریل‬‮ 2025 

آمدن سے زائد اثاثوں پر کچھ نہیں نکلا تو ہیروئین کا کیس ڈال دیا، اب ہیروئن کیس ناکام ہو رہا ہے تو کیا کرنے جا رہے ہیں؟ رانا ثناء اللہ کی چونکا دینے والی باتیں

datetime 6  جنوری‬‮  2020
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد (این این آئی) پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ آمدن سے زائد اثاثوں پر کچھ نہیں نکلا تو ہیروئین کا کیس ڈال دیا، اب ہیروئن کا کیس ناکام ہورہا ہے تو دوبارہ اثاثوں پر جارہے ہیں، اس انتقام کا انجام بھی ماضی کے سیاسی انتقاموں جیسا ہوگا۔ پیر کو پارلیمنٹ کے باہر رانا ثناء اللہ سے صحافی نے سوال کیاکہ ایک مؤقف ہے آرمی چیف کی توسیع پر ووٹنگ کی وجہ سے آپ کو ضمانت ملی؟

جس پر رانا ثناء اللہ نے جواب دیاکہ اگر ضمانت آرمی چیف کی توسیع پر ملنی ہوتی تو توسیع تو اگست میں ہوئی۔ انہوں نے کہاکہ مجھے پھر چار پانچ ماہ جیل میں کیوں رکھا؟ انہوں نے کہاکہ جب ریاست گوداموں سے منشیات نکال کر شہریوں پر ڈالنے لگے تو ریاست اور شہریوں کا کیا تعلق رہ جاتا ہے۔ صحافی نے سوال کیاکہ آپ پر آمدن سے زائد اثاثوں کا ریفرنس بھی تیار کیا جارہا ہے۔ رانا ثناء اللہ نے کہاکہ آمدن سے زائد اثاثوں کا ریفرنس پہلے تیار کیا جارہا تھا، آمدن سے زائد اثاثوں پر کچھ نہیں نکلا تو ہیروئین کا کیس ڈال دیا۔ انہوں نے کہاکہ اب ہیروئین کا کیس ناکام ہورہا ہے تو دوبارہ اثاثوں پر جارہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ یہ کھلا سیاسی انتقام ہے، اس انتقام کا انجام بھی ماضی کے سیاسی انتقاموں جیسا ہوگا۔ انہوں نے کہاکہ ساٹھ سال پہلے بھینس چوری کا کیس بنا وہ سیاست کے ماتھے پرکالک ہے۔ انہوں نے کہاکہ اگر ایسے ہی سیاسی انتقام لیا جاتا رہے تو پارلیمنٹ کی کوئی عزت نہیں رہ جاتی۔انہوں نے کہاکہ ایسی پارلیمنٹ میں آزاد جمہوری دور کی بات نہیں ہوسکتی۔ انہوں نے کہاکہ آرمی ایکٹ پہلے ہی پارلیمانی روایات کے مطابق پاس کرایا جاتا،حکومت نے ایک بار پھر نا اہلی کا ثبوت دیا۔انہوں نے کہاکہ حکومت ایک ہی دن میں ایکٹ پاس کرانا چاہتی تھی، یہ ساری شرمندگی حکومت کی نااہلی اور نالائقی کی وجہ سے ہوئی ہے،یا یہ کوئی چھپا ہوا ایجنڈہ ہے اور جان بوجھ کر ایسا کیا جا رہا ہے۔

موضوعات:



کالم



زلزلے کیوں آتے ہیں


جولیان مینٹل امریکا کا فائیو سٹار وکیل تھا‘…

چانس

آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…