جمعرات‬‮ ، 13 اگست‬‮ 2026 

وزیراعظم عمران خان کی جانب سے آئی جی پنجاب کی تبدیلی بھی فرسودہ و گھٹیا انداز گورننس میں کوئی تبدیلی نہ لا سکی، شہریوں نے بڑے مطالبات کر دیے

datetime 30  دسمبر‬‮  2019 |

جھنگ (این این ۱ٓئی):وزیراعظم عمران خان کی جانب سے ۱ٓئی جی پولیس پنجاب کی تبدیلی بھی ماتحتوں کے فرسودہ و گھٹیا انداز گورننس میں کوئی تبدیلی نہ لاسکی جس کی واضح مثال پولیس چوکی مگھیانہ جھنگ کی ہے جس کا علاقہ ڈکیتیوں، سٹریٹ کرائمز،چوریوں، منشیات فروشوں،عصمت فروشی کے اڈے چلانے والوں کا گڑھ بن گیاہے جبکہ جگہ جگہ انعامی بانڈز کی پرچیوں و تاشوں پر جوئے نے سینکڑوں گھرانے کنگال کردیئے ہیں

مگرانچارج چوکی مگھیانہ کی فرعونیت انتہا کو پہنچ گئی ہے جس نے جرائم پیشہ عناصر کو پکڑنے کی بجائے مختلف مقامات پر ناکے لگا کر موٹر سائیکل سوار شریف شہریوں کی زندگی اجیرن بنادی ہے نیز بات بات پر بدتمیزی،ناروا ہتک ۱ٓمیز رویہ اور قابل اعتراض غلیظ زبان کا استعمال بھی عام ہوگیا ہے جس پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے شہریوں نے کرپٹ، نااہل، زبان درازاور عوام و پولیس میں فاصلے بڑھانے سمیت شہریوں میں وردی سے متعلق نفرت پھیلانے والے انچارج چوکی مگھیانہ جھنگ صدر سب انسپکٹر کوفوری ان کے عہدہ سے برطرف، معطل و تبدیل کرنے کا مطالبہ کیاہے۔ جھنگ کے مختلف سیاسی، سماجی، دینی، مذہبی، عوامی حلقوں نے میڈیا سے بات چیت کے دوران بتایا کہ ایک طرف وزیر اعظم عمران خان نے پنجاب کے گھٹیا، فرسودہ، دقیانوسی اور گھسے پٹے پولیس کلچر کی تبدیلی کیلئے نہ صرف انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب کو تبدیل کیا بلکہ انہیں مکمل فری ہینڈ بھی دیا کہ وہ پہلے سے تعینات تمام سی سی پی اوز، سی پی اوز، رینج ڈی ۱ٓئی جیز، ریجنل پولیس ۱ٓفیسرز اور ڈسٹرکٹ پولیس ۱ٓفیسرز کوتبدیل کرکے اپنی مرضی کی نئی پولیس ۱ٓفیسرز کی ٹیم لیکر ۱ٓئیں بلکہ عوام میں پولیس کا کھویاہوا اعتماد بھی بحال کریں۔انہوں نے بتایا کہ اسی پولیس کلچر چینجنگ پالیسی کی روشنی میں نیا ریجنل پولیس ۱ٓفیسر فیصل ۱ٓباد ریجن اور ڈسٹرکٹ پولیس ۱ٓفیسر جھنگ بھی تعینات کیا گیا مگر مذکورہ بہترین افسران کی ٹیم کی موجودگی اور فرض شناسی سمیت ماتحت پولیس افسران کو اپنا گھٹیا و فرسودہ رویہ تبدیل کرکے خود کو

عوام دوست ثابت کرنے اور پولیس کے مسخ شدہ امیج کی بحالی کے سخت احکامات کے باوجود ماتحت پولیس اہلکاروں نے کتے کی دم والی مثال قائم رکھتے ہوئے ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرنا شروع کردیا۔انہوں نے بتایا کہ پولیس چوکی مگھیانہ جھنگ صدر کے انچارج سب انسپکٹر نے نہ صرف وزیر اعظم عمران خان،وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار،۱نسپکٹر جنرل پولیس پنجاب، ریجنل پولیس ۱ٓفیسر فیصل ۱ٓباد اور ڈسٹرکٹ پولیس ۱ٓفیسر جھنگ کے پولیس کلچر کی تبدیلی کے احکامات ہوا میں اڑا دئیے بلکہ شہریوں میں پولیس و حکومت کے خلاف نفرت پھیلانے کا موجب بھی بن رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مذکورہ انچارج پولیس چوکی مگھیانہ جھنگ صدر جرائم پیشہ عناصر کی سرکوبی اور قانون شکن عناصر کے خلاف شکنجہ کسنے کی بجائے شریف شہریوں کیلئے وبال جان بنتا جارہا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ موصوف شہر کے مختلف مقامات پر اپنے ماتحت کا نسٹیبلان کے ہمراہ ناکے لگا لیتا ہے جہاں سے گزرنے والے تمام شہریوں کو روک کر تلاشی و چیکنگ کے بہانے ان سے بدتمیزی کی جاتی ہے حتیٰ کہ فیملی کے ساتھ جانیوالوں کو بھی نہیں بخشا جاتا۔انہوں نے کہا کہ اگر کوئی شخص شدید سردی میں بلاوجہ روک کر تلاشیاں لینے پر کوئی بات کرے تو اس کے ساتھ نہ صرف انتہائی گھٹیا، ناروا،ہتک ۱ٓمیز رویہ اختیار کیا جاتا ہے بلکہ اسے پولیس چوکی میں بند کرنے کی دھمکیاں بھی دی جاتی ہیں مگر دوسری جانب جرائم پیشہ عناصر کو کھلی چھوٹ دیدی گئی ہے۔انہوں نے کہاکہ پولیس چوکی مگھیانہ جھنگ کے علاقہ میں جگہ جگہ عصمت فروشی کے اڈے اور جوئے خانے بھی کھلے عام چل رہے ہیں جبکہ منشیات فروشی اور جرائم کی دیگر بڑھتی ہوئی وارداتیں اس کے علاوہ ہیں۔انہوں نے ارباب اختیار سے صورتحال کافوری نوٹس لینے اورانچارج پولیس چوکی مگھیانہ جھنگ صدر کو فوری برطرف، معطل و ضلع سے باہر تبدیل کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…