ہفتہ‬‮ ، 21 فروری‬‮ 2026 

ائیرپورٹ پر تعینات مختلف محکموں کے عملے پر رشوت خور اور غیر مہذب ہونے کے الزام لگا دیے گئے، مسافروں سے لڑائی جھگڑے اور بدتمیزی معمول بن گئی

datetime 21  دسمبر‬‮  2019 |

اسلام آباد( آن لائن )مسافروں کی ائیر پورٹ پر تعینات مختلف محکموں کے عملے پر رشوت اور غیر مہذب یافتہ ہونے کے الزامات، وزارت نے اوورسیز نے الزامات کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل دیدی۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان میں ہزاروں کی تعداد میں مسافر ائیرپورٹ کے ذریعہ بیرون ملک اور اندرون ملک سفر کرتے ہیں اورروز ائیرپورٹس پر سرکاری ملازمین کے ساتھ مسافروں کے جھگڑے کی شکایات، وڈیوز منطر عام پر آتی رہتی ہے مگر اداروں کی جانب سے ان پر شادر نادر ہی ایکشن لیا جاتا ہے

لیکن جمعرات کو پاکستان کی اورسیز وزارت کی جانب سے ٹوٹیڑ پر ایک اسٹیٹس اپ لوڈ کیا گیا اور مسافروں سے ائیرپورٹس پر آنے والے مسائل کے حوالے سے استفسار کیا گیا تو سینکڑوں کی تعداد میں نہ صرف لوگوں نے اپنے ساتھ آنے والے واقعات سے آگاہ کیا بلکہ اس اسٹیٹس کو ہزاروں کی تعداد میں شئیر بھی کیا اکثر لوگوں نے ائیرپورٹ پر تعینات مختلف اداروں کے عملے کے غیر مہذب ہونے کی شیکایات کیں ایک صارف شہ زی نے لکھا کہ عملہ نہ تو مسافروں کو خوش آمدید کہتا ہے بلکہ ہر وقت رشوت لینے کے موڈ میں ہوتا ہے اسی طرح ایک اور ٹیوٹر صارف سہیل رشید نے لکھا کہ مسافروں کے سامان کی غیر تربیت یافتہ اسٹاف برے طریقے سے تلاشی لیتا یے آئے ایس ایف کا کام ھے۔ ایئرپورٹ کی حفاظت۔ وہ پشاور ایئرپورٹ میں مسافروں کے سامان کی چیکنگ پر لگی ھے۔ انتہائی بدتمیز ھیں۔ قلی بغیر باری کے دوسو روپے لیکر مسافروں کو آگے پیچھے کرتے ھیں۔ سامان کا کوئی پرسان حال نھیں۔ ان سے بہتر تو ڈیؤ کا اڈا ھے۔ ایس ایم نے تنزیہ انداز میں پوائنٹ آوٹ کیا،رانا مزمل نے لکھا کہ میرے انکل 4 بوتلیں دیسی گھی کی لے کے جا رہے تھے لاہور ائرپورٹ پر چیکنگ سٹاف کا کہنا تھا یہ نہیں جا سکتا یہ واپس کریں پھر کیا چاچو نے 1 بوتل دیسی گھی کی دی اور 3 بوتلیں لیگل کروا لیں۔اور انتظامیہ مسافروں کو ایسے دیکھتی ہے جیسے یہ ان کے آخری دشمن ہیں عامر حسن نے لکھا کہ چوروں ڈاکوں، اسمکلرز کو تو پروٹوکول کے ساتھ جہاز تک لے جاتے ہو اور عام عوام کی تلاشی ایسے لیتے ہیں کے مت پوچھو!

ظہر اشرف وٰڑائچ نے لکھا کہ جب دس سال بعد واپس آؤ تو دل کرتا ہے کہ کوئی پیار سے پیش آئے مگر ائیر پورٹ پر اترتے ساتھ ہی کتے والی کرنا شروع کر دیتے ہیں میری تو خواہش ہی رہی کہ کوئی بولے (ویلکم ہوم سر)عرفان چودھری نے تجویز دی کہ ٹیکس ایبل اشیاء کی فہرست کسٹم ویبسایٹ پر ہونی چاہیے اور یہ بھی لکھا ہونا چاہیے کہ کس آئٹم پر کتنا ٹیکس ہے۔ ایئر پورٹ پر کسٹم حکام کسی بھی چیز کو پکڑ کر اپنی مرضی کا ٹیکس بتاتے ہیں اور پھر اس سے آدھی قیمت میں رشوت لے کر جانے دیتے ہیں۔وزارت کی جانب سے ایک اور اسٹیٹس میں بتایا گیا کہ مسافروں کی تجاویز لے لی گئی ہیں اور جلد ہی ان پر عمل درآمد کیا جائے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



چوہے کھانا بند کریں


ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…