جمعرات‬‮ ، 01 جنوری‬‮ 2026 

آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کیلئے قانون سازی کی حمایت کرنے سے مولانا فضل الرحمان نے انکار کردیا

datetime 21  دسمبر‬‮  2019 |

پشاور(این این آئی)جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ یہ اسمبلی متنازعہ اورعمران خان حکومت حماقتوں کا مجموعہ ہے،کام، ناجائز اور نااہل حکومت کی حماقتوں کی وجہ سے آرمی چیف بھی مذاق بن گئے، موجودہ حکومت اور اسمبلی کو آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے حوالے سے اختیار نہیں،پانامہ اور کرپشن کیسز ہوں یا نیب کی تحریک اس کے پیچھے اصل ایجنڈا ملک میں عدم استحکام پیدا کرنا ہے،

اسی مقصد کیلئے عمران خان کو لایا گیا، ملک اقتصادی طور پرتاریخ کی بدترین صورت حال پر ہے، معاشی اداروں کے مطابق دو سال مزید بھی مستحکم نہیں ہوگی۔ ہفتہ کو تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ناکام، ناجائز اور نااہل حکومت کی حماقتوں کی وجہ سے آرمی چیف بھی مذاق بن گئے، موجودہ حکومت اور اسمبلی کو آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے حوالے سے اختیار نہیں، اس اسمبلی کو آرمی چیف کی توسیع کی قانون سازی کاحق نہیں دے سکتے ورنہ یہ قانون متنازعہ ہوگا، کیوں کہ یہ اسمبلی متنازعہ ہے اور عمران خان حکومت حماقتوں کا مجموعہ ہے۔ انہوں نے کہاکہ جمہوریت پریقین رکھتے ہیں تو ملک میں فوری طور پر نئے شفاف عام انتخابات کراتے ہوئے معاملات ان کے حوالے کیے جائیں تاکہ ملک بحرانوں سے نکل سکے۔مولانافضل الرحمان نے کہا کہ پرویز مشرف موجودہ وقت میں فوج کے سربراہ نہیں بلکہ سیاسی پارٹی کے سربراہ ہیں اور جس طرح دیگر سیاستدانوں کے خلاف عدالتی فیصلوں کا خیر مقدم کیاجاتا ہے اسی طرح پرویز مشرف کے خلاف فیصلے پر بھی بیانات جاری نہیں کرنے چاہئے، ایسے بیانات ادروں میں ٹکراؤ کی صورتحال پیدا کرتے ہیں، حالات سنگین ترین ہیں پھونک پھونک کرقدم رکھنا ہوگا۔سربراہ جے یو آئی نے کہا کہ پانامہ اور کرپشن کیسز ہوں یا نیب کی تحریک اس کے پیچھے اصل ایجنڈا ملک میں عدم استحکام پیدا کرنا ہے اور اسی مقصد کے لیے عمران خان کو اقتدار دیا گیا، چور چور کی رٹ لگا کر کب تک سیاست کی جائے گی، ملک اقتصادی طور پرتاریخ کی بدترین صورت حال پر ہے، معاشی اداروں کے مطابق دو سال مزید بھی مستحکم نہیں ہوگی۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کام یابی کے دو فارمولے


کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…

جج کا بیٹا

اسلام آباد میں یکم دسمبر کی رات ایک انتہائی دل…

عمران خان اور گاماں پہلوان

گاماں پہلوان پنجاب کا ایک لیجنڈری کردار تھا‘…

نوٹیفکیشن میں تاخیر کی پانچ وجوہات

میں نریندر مودی کو پاکستان کا سب سے بڑا محسن سمجھتا…

چیف آف ڈیفنس فورسز

یہ کہانی حمود الرحمن کمیشن سے شروع ہوئی ‘ سانحہ…