جمعرات‬‮ ، 13 اگست‬‮ 2026 

نئے پاکستان میں دو قانون ہیں،میرے ہاتھ میں ڈنڈا ہے تو مجھے دکھاؤ میں نے گاڑی جلائی ہو تو بتاؤ،حسان نیازی نے اپنے میڈیا ٹرائل کی حیران کن وجہ بتا دی

datetime 20  دسمبر‬‮  2019 |

لاہور(این این آئی) پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی حملے میں روپوش وزیراعظم عمران خان کے بھانجے بیرسٹر حسان نیازی نے کہا ہے کہ میرا میڈیا ٹرائل کیا گیا، نئے پاکستان میں دو قانون ہیں،’میرے ہاتھ میں ڈنڈا ہے تو مجھے دکھاؤ میں نے گاڑی جلائی ہو، کوئی اشتعال انگیزی کی ہو تو بتاؤ۔ضمانت قبل از گرفتاری حاصل کرنے کے بعد پریس کانفرنس میں کرتے ہوئے حسان نیازی نے کہاکہ

‘میری برادری نے واقعے پر افسوس اور شرمندگی کا اظہار کیا اور میں اپنے سینئر وکلا کے موقف کے ساتھ کھڑا ہوں۔حسان نیازی نے کہا کہ پولیس کے پاس میرے خلاف کچھ نہیں ہے، میں کسی کیس میں نامزد نہیں ہوں، صرف عمران خان کا بھانجا ہونے کی وجہ سے میرے ساتھ زیادتی کی گئی۔ان کا کہنا تھا کہ میں پاکستان کا پہلا وکیل تھا جس نے واقعے کے بعد ٹوئٹر پر اپنی شرمندگی کا اظہار کیا۔حسان نیازی نے کہا کہ پولیس نے پر امن احتجاج کی اجازت دی تھی میں اس پر امن احتجاج کا حصہ بنا۔علاوہ ازیں انہوں نے مطالبہ کیا کہ ڈاکٹروں نے جو ویڈیوز ہسپتال میں بنائی تھی وہ منظر عام پر لائی جائے اور اس ضمن میں پولیس اور میڈیا اپنا کردار ادا کرے۔انہوں نے کہا کہ پی آئی سی حملے میں ملوث کرداروں کو کیفرکردار تک پہنچایا جائے۔انہوں نے اپنے خلاف ایف آئی آر کو بے بنیاد قرار دیا اور کہا کہ ‘مذکورہ ایف آئی آر کی کوئی حیثیت نہیں ہے’۔حسان نیازی پریس کانفرنس کے دوران جذباتی ہوگئے اور روہانسے لہجے میں کہا کہ ‘مجھ پر الزام لگایا گیا کہ آئی سی یو میں مریض کا آکسیجن ماسک اتارا دیا، زرا سوچیں کتنا بڑا گناہ ہے، اگر مجھے اس گناہ میں شامل کررہے ہو تو ایک تحقیقات تو کرو’۔ان کا کہنا تھا کہ ‘جس دن یہ واقعہ پیش آیا اس رات صرف ایک شخص نے شو کے دوران مجھ سے کال پر بات کی۔انہوں نے کہا کہ ‘میں موقف دوں یا نہیں دو لیکن میڈیا کی ذمہ داری ہے کہ جو گاڑی کے پاس کھڑے تھے میڈیا ان کی پوری فوٹیج نشر کرے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…