اتوار‬‮ ، 22 فروری‬‮ 2026 

نئے پاکستان میں دو قانون ہیں،میرے ہاتھ میں ڈنڈا ہے تو مجھے دکھاؤ میں نے گاڑی جلائی ہو تو بتاؤ،حسان نیازی نے اپنے میڈیا ٹرائل کی حیران کن وجہ بتا دی

datetime 20  دسمبر‬‮  2019 |

لاہور(این این آئی) پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی حملے میں روپوش وزیراعظم عمران خان کے بھانجے بیرسٹر حسان نیازی نے کہا ہے کہ میرا میڈیا ٹرائل کیا گیا، نئے پاکستان میں دو قانون ہیں،’میرے ہاتھ میں ڈنڈا ہے تو مجھے دکھاؤ میں نے گاڑی جلائی ہو، کوئی اشتعال انگیزی کی ہو تو بتاؤ۔ضمانت قبل از گرفتاری حاصل کرنے کے بعد پریس کانفرنس میں کرتے ہوئے حسان نیازی نے کہاکہ

‘میری برادری نے واقعے پر افسوس اور شرمندگی کا اظہار کیا اور میں اپنے سینئر وکلا کے موقف کے ساتھ کھڑا ہوں۔حسان نیازی نے کہا کہ پولیس کے پاس میرے خلاف کچھ نہیں ہے، میں کسی کیس میں نامزد نہیں ہوں، صرف عمران خان کا بھانجا ہونے کی وجہ سے میرے ساتھ زیادتی کی گئی۔ان کا کہنا تھا کہ میں پاکستان کا پہلا وکیل تھا جس نے واقعے کے بعد ٹوئٹر پر اپنی شرمندگی کا اظہار کیا۔حسان نیازی نے کہا کہ پولیس نے پر امن احتجاج کی اجازت دی تھی میں اس پر امن احتجاج کا حصہ بنا۔علاوہ ازیں انہوں نے مطالبہ کیا کہ ڈاکٹروں نے جو ویڈیوز ہسپتال میں بنائی تھی وہ منظر عام پر لائی جائے اور اس ضمن میں پولیس اور میڈیا اپنا کردار ادا کرے۔انہوں نے کہا کہ پی آئی سی حملے میں ملوث کرداروں کو کیفرکردار تک پہنچایا جائے۔انہوں نے اپنے خلاف ایف آئی آر کو بے بنیاد قرار دیا اور کہا کہ ‘مذکورہ ایف آئی آر کی کوئی حیثیت نہیں ہے’۔حسان نیازی پریس کانفرنس کے دوران جذباتی ہوگئے اور روہانسے لہجے میں کہا کہ ‘مجھ پر الزام لگایا گیا کہ آئی سی یو میں مریض کا آکسیجن ماسک اتارا دیا، زرا سوچیں کتنا بڑا گناہ ہے، اگر مجھے اس گناہ میں شامل کررہے ہو تو ایک تحقیقات تو کرو’۔ان کا کہنا تھا کہ ‘جس دن یہ واقعہ پیش آیا اس رات صرف ایک شخص نے شو کے دوران مجھ سے کال پر بات کی۔انہوں نے کہا کہ ‘میں موقف دوں یا نہیں دو لیکن میڈیا کی ذمہ داری ہے کہ جو گاڑی کے پاس کھڑے تھے میڈیا ان کی پوری فوٹیج نشر کرے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



چوہے کھانا بند کریں


ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…