جمعرات‬‮ ، 13 اگست‬‮ 2026 

مجھ پر الزام بے بنیاد ہے ،میرے اور عدلیہ کیخلاف کیا گھنائونی مہم چل رہی ہے؟ جب میں پیدا ہوا تو میرے منہ میں ایک دانت تھا، میرے خاندان میں کیا چہ مگوئیاں شروع ہو گئیں تھیں ؟ چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے اہم انکشاف کر دیا

datetime 20  دسمبر‬‮  2019 |

اسلام آباد( آن لائن )چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا ہے کہ مجھ پر الزام بے بنیاد ہے غلط ہے ہمیں اپنی حدود کا علم ہے سچ کا بول بالا ہوگا ،سچ ہمیشہ زندہ رہتا ہے میرے اور عدلیہ کیخلاف گھنائونی مہم چل رہی ہے ایک جج کو بے خوف و خطر ہونا چاہیے دل شیر کی طرح اعصاب فولاد کی ہونا چاہیے جب میں پیدا ہوا تو میرے منہ میں ایک دانت تھا،میرے خاندان میں یہ بات مشہور ہو گئی کہ

بچہ بہت خوش قسمت ہو گا،اٹارنی جنرل نے کہا کہ میں مشرف کیس پر اثر انداز ہوا۔میڈیا پر تاثر دیا گیا کہ میں نے پرویز مشرف کیس فیصلے کی حمایت کی،بطور چیف جسٹس 11ماہ 337دن ذمے داری نبھائی۔اپنے22 سالہ کرئیر کے دوران مختلف قانونی معاملات کا ہر پہلو سے جائزہ لیا۔قانونی تقاضوں سمیت بغیر خوف اور جانبداری سے فیصلے کیے۔ ان خیالات کااظہار چیف جسٹس نے فل کورٹ ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا خطا ب شروع کرنے سے پہلے چیف جسٹس نے سورت الخل سے کیا ۔ اپنے اعزاز میں فل کورٹ ریفرنس سے خطاب کرنے سے پہلے چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے خود سے منسوب پرویز مشرف کیس سے متعلق بیان پر وضاحت بھی پیش کی۔انہوں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایڈیشنل آئی جی نے کہا کہ میں نے میڈیا سے بات کی۔اٹارنی جنرل نے کہا کہ میں مشرف کیس پر اثر انداز ہوا۔میڈیا پر تاثر دیا گیا کہ میں نے پرویز مشرف کیس فیصلے کی حمایت کی۔یہ مجھے اور عدلیہ کو بدنام کرنے کی گھنانی سازش ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ مجھے پر الزام بے بنیاد اور غلط ہے۔ہمیں اپنی حدود کا علم ہے۔سچ کا بول بالا ہو گا۔سچ سب کے سامنے آئے گا۔جج کو غیر جانبدار ہونے کے ساتھ دل سے شیر ہونا چاہئیے۔سچ ہمیشہ زندہ رہتا ہے۔انہوں نے کہا میرے اور عدلیہ کے خلاف گھنائونی مہم چل پڑی ہے۔چیف جسٹس نے کا میرے نزدیک ایک جج کو بے خوف وخطر ہونا چاہئیے۔

ایک جج کا دل شیر کی طرح اور اعصاب فولاد کی طرح ہونا چاہئیے۔ کچھ لوگ تمہیں سمجھائیں گے۔وہ تم کو خوف دلائیں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ عدالتی چھٹیاں نکال کر 235 دن چیف جسٹس کے منصب پر فائز رہا۔جب میں پیدا ہوا تو میرے منہ میں ایک دانت تھا۔میرے خاندان میں یہ بات مشہور ہو گئی کہ بچہ بہت خوش قسمت ہو گا۔میں نے ہمیشہ وہ کیا جسے درست سمجھا،بطور چیف جسٹس 11ماہ 337دن

ذمے داری نبھائی۔اپنے22 سالہ کرئیر کے دوران مختلف قانونی معاملات کا ہر پہلو سے جائزہ لیا۔قانونی تقاضوں سمیت بغیر خوف اور جانبداری سے فیصلے کیے۔بطور جج ہمیشہ اپنے حلف کی پاسداری کی۔میرے لیے یہ اہم نہیں کہ دوسروں کا ردِعمل یا نتائج کیا ہو سکتے ہیں۔یاد رہے سپریم کورٹ آف پاکستان کے موجودہ چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ 20 دسمبر کو عہدے سے ریٹائرڈ ہو رہے ہیں

چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے 18جنوری 2019 کو چیف جسٹس کا عہدہ سنبھالا تھا۔ جبکہ سنیارٹی اور مدت ملازمت کے لحاظ سے اگلے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزاراحمد ہوں گے وہ 21 دسمبر کو عہدے کا حلف اٹھائیں گے اور دو سال چیف جسٹس رہنے کے بعد یکم جنوری 2022 کو عہدے سے سبکدوش ہوں گے، ان کے بعد مسٹر جسٹس عمر عطاء بندیال 2 فروری 2022 کو بطور چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان کا عہدہ سنبھالیں گے۔ وزارت قانون نے نئی تقرری کے لئے سمری وزیراعظم کو ارسال کی جا چکی تھی ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…