جمعرات‬‮ ، 11 جون‬‮ 2026 

وزیراعظم کو توہین مذہب کی بنیاد پر نااہل کرنے کی درخواست پر فیصلہ سنا دیا گیا

datetime 20  دسمبر‬‮  2019 |

اسلام آباد(آن لائن)ہائی کورٹ نے وزیراعظم عمران خان کو توہین مذہب کی بنیاد پر نااہل کرنے کی درخواست ناقابل سماعت قرار دے دی ہے۔اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے سلیم اللہ خان ایڈووکیٹ کی درخواست ناقابل سماعت قرار دے کر خارج کردی۔اس ضمن میں عدالت عالیہ کی جانب سے دو صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کر دیا گیا ہے۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ جب حقائق واضع ہوں تو کسی اجتماع میں غیر ارادی غلطی کوگستاخی کے طور پر نہیں لیا جاسکتا، گستاخی کا الزام اس وقت بھی ٹھیک نہیں جب مکمل واضع ہو کہ متعلقہ شخص ایسا کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا تھا۔فیصلے میں فاضل جج نے لکھا کہ ایمان اور یقین ہر شخص کا ذاتی معاملہ ہے دوسروں کو اس پر سوال نہیں اٹھانا چاہئے، توہین رسالت کا الزام لگانے کے حوالے سے ہمیشہ انتہائی احتیاط سے کام لینا ضروری ہے۔تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ 62 ون ای کے حوالے سے اسلامی تعلیمات کو عدالتی کاروائی کے ذریعے نہیں ماپا جاسکتا ، آرٹیکل 199 کے تحت کسی منتخب نمائندے کو اہل یا نااہل کرنے کے حوالے سے بھی انتہائی احتیاط کی ضرورت ہے۔فیصلے میں کہا گیا ہے کہ درخواست گزار نے وزیراعظم عمران خان کے ایمان اور یقین پر سوال اٹھایا ہے، تسلیم شدہ حقیقت ہے وزیراعظم نے حلف اٹھایا ہے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری نبی ہونے پر مکمل یقین رکھتے ہیں۔یاد رہے گزشتہ روز عدالت نے وزیراعظم عمران خان کے خلاف توہین مذہب کے الزام پر دائر نااہلی کی درخواست قابل سماعت ہونے پر فیصلہ محفوظ کیا تھا۔درخواست گزارسلیم اللہ ذاتی حیثیت میں اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیش ہوئے۔ سماعت کے آغاز پر کیس کے مدعی نے مؤقف اپنایا کہ عدالت عالیہ نے توہین عدالت پر جس عمران خان کو آج معاف کیا وہ توہین مذہب بھی کرتے ہیں

ان کا کہنا تھا کہ عمران خان قرآن سے وہ باتیں منسوب کرتے ہیں جو اس میں موجود نہیں، جس پرعدالت نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ آپ درخواست پر فیصلے کا انتظار کریں۔درخواست گزار نے جواب میں کہا کہ فیصلے کے انتظار کا مطلب درخواست مسترد ہی ہوتا ہے۔فاضل جج نے درخواست گزار کے رویے پربرہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آپ وکیل ہیں، عدالت کا احترام ملحوظ خاطررکھیں۔جس پر درخواست گزار سلیم اللہ نے کمرہ عدالت میں ہتھکڑی لہراتے ہوئے کہا کہ مجھے توہین عدالت میں گرفتار کرا دیں۔ اس موقع پر فاضل جج نے کہا کہ آپ عدالت میں معاملہ لائے ہیں، اس پر حکم جاری کیا جائے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



8 بجے تک


میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…