جمعرات‬‮ ، 13 اگست‬‮ 2026 

وزیراعظم کو توہین مذہب کی بنیاد پر نااہل کرنے کی درخواست پر فیصلہ سنا دیا گیا

datetime 20  دسمبر‬‮  2019 |

اسلام آباد(آن لائن)ہائی کورٹ نے وزیراعظم عمران خان کو توہین مذہب کی بنیاد پر نااہل کرنے کی درخواست ناقابل سماعت قرار دے دی ہے۔اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے سلیم اللہ خان ایڈووکیٹ کی درخواست ناقابل سماعت قرار دے کر خارج کردی۔اس ضمن میں عدالت عالیہ کی جانب سے دو صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کر دیا گیا ہے۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ جب حقائق واضع ہوں تو کسی اجتماع میں غیر ارادی غلطی کوگستاخی کے طور پر نہیں لیا جاسکتا، گستاخی کا الزام اس وقت بھی ٹھیک نہیں جب مکمل واضع ہو کہ متعلقہ شخص ایسا کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا تھا۔فیصلے میں فاضل جج نے لکھا کہ ایمان اور یقین ہر شخص کا ذاتی معاملہ ہے دوسروں کو اس پر سوال نہیں اٹھانا چاہئے، توہین رسالت کا الزام لگانے کے حوالے سے ہمیشہ انتہائی احتیاط سے کام لینا ضروری ہے۔تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ 62 ون ای کے حوالے سے اسلامی تعلیمات کو عدالتی کاروائی کے ذریعے نہیں ماپا جاسکتا ، آرٹیکل 199 کے تحت کسی منتخب نمائندے کو اہل یا نااہل کرنے کے حوالے سے بھی انتہائی احتیاط کی ضرورت ہے۔فیصلے میں کہا گیا ہے کہ درخواست گزار نے وزیراعظم عمران خان کے ایمان اور یقین پر سوال اٹھایا ہے، تسلیم شدہ حقیقت ہے وزیراعظم نے حلف اٹھایا ہے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری نبی ہونے پر مکمل یقین رکھتے ہیں۔یاد رہے گزشتہ روز عدالت نے وزیراعظم عمران خان کے خلاف توہین مذہب کے الزام پر دائر نااہلی کی درخواست قابل سماعت ہونے پر فیصلہ محفوظ کیا تھا۔درخواست گزارسلیم اللہ ذاتی حیثیت میں اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیش ہوئے۔ سماعت کے آغاز پر کیس کے مدعی نے مؤقف اپنایا کہ عدالت عالیہ نے توہین عدالت پر جس عمران خان کو آج معاف کیا وہ توہین مذہب بھی کرتے ہیں

ان کا کہنا تھا کہ عمران خان قرآن سے وہ باتیں منسوب کرتے ہیں جو اس میں موجود نہیں، جس پرعدالت نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ آپ درخواست پر فیصلے کا انتظار کریں۔درخواست گزار نے جواب میں کہا کہ فیصلے کے انتظار کا مطلب درخواست مسترد ہی ہوتا ہے۔فاضل جج نے درخواست گزار کے رویے پربرہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آپ وکیل ہیں، عدالت کا احترام ملحوظ خاطررکھیں۔جس پر درخواست گزار سلیم اللہ نے کمرہ عدالت میں ہتھکڑی لہراتے ہوئے کہا کہ مجھے توہین عدالت میں گرفتار کرا دیں۔ اس موقع پر فاضل جج نے کہا کہ آپ عدالت میں معاملہ لائے ہیں، اس پر حکم جاری کیا جائے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…