آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کامعاملہ طے پاگیا،توسیع کس طرح ہوگی؟ حیرت انگیز انکشافات

  جمعرات‬‮ 5 دسمبر‬‮ 2019  |  22:00

اسلام آباد(این این آئی)وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ شہبازشریف اور نواز شریف کی واپسی میں تاخیر دیکھ رہا ہوں،آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع طے شدہ مسئلہ ہے اور توسیع سادہ اکثریت سے ہوگی۔میڈیا سے گفتگو میں وزیر ریلوے شیخ رشید نے کہا کہ پاکستان دنیا کے ان ممالک میں سے جہاں مسافر ٹرینیں منافع میں جارہے ہیں،مارکیٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے کرایوں میں 10 فیصد کمی کررہے ہیں اور ریلوے خسارے کو تین سال میں ختم کردیں گے، 14 دسمبر کو واہگہ بارڈر جلوموڑ ٹرین شروع کررہے۔شیخ رشید


نے کہا کہ شہبازشریف، نواز شریف کے ساتھ ٹوکن کے طور پر گئے ہیں، شہبازشریف جب سچ بولیں گے ان کی سیاست ختم ہوجائے گی، دونوں کی واپسی میں تاخیر دیکھ رہا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع طے شدہ مسئلہ ہے اور توسیع سادہ اکثریت سے ہوگی۔وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید نے کہا کہ دو دفعہ الیکشن کمشنر کو متفقہ طور پر بنایا گیا لیکن اپوزیشن نے نتائج تسلیم نہیں کیے جبکہ پارلیمنٹ کے فیصلے عدالتیں کرنے لگ گئیں تو وہ دن بھی آئے گا پارلیمنٹ کے فیصلے صرف عدالتیں ہی کریں گی۔ انہوں نے کہا کہ چیئرمین سینیٹ کے لیے یہ ان ہاؤس تبدیلی نہیں لا سکے، وزیراعظم کے لیے تبدیلی کیسے لائیں گے۔انہوں نے کہاکہ مولانا فضل الرحمان دسمبر کی بات کرتے ہیں وہ ساتھ میں سال بھی بتائیں۔ایک انٹرویو میں شیخ رشید احمد نے کہا کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف کو باہر بھیجنے کے پیچھے پوری منصوبہ بندی ہوئی تھی اور اس سلسلے میں مافیا نے مولانا فضل الرحمان کو بھی استعمال کیا تھا۔انہوں نے کہا کہ نواز شریف کے بیرون ملک جانے کے معاملے پر حکومت دھوکہ کھا گئی جس کا ادراک وزیر اعظم کو بھی ہے۔ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر نے کہا کہ اگر مجرم نواز شریف کو ملک سے باہر جانے کی اجازت مل سکتی ہے تو ملزم آصف علی زرداری کو اجازت دینے میں کیا قباحت ہے،اگر آصف علی زرداری کو اجازت نہ دی گئی تو اس سے یہ تاثر ملے گا کہ پنجابی کے لیے الگ اور سندھی کے لیے الگ قانون ہے۔پاکستانی ٹیم کی پرفارمنس پر دلچسپ تبصرہ کرتے ہوئے شیخ رشید نے کہا کہ اس معاملے پر ہمیں بھی طعنے پڑ رہے ہیں اور لوگ کہہ رہے ہیں کہ اگر ٹماٹر سستے ہوتے تو کم از کم اس ٹیم پر پھینکیں تو جاسکتے تھے۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

آخری موو

سینیٹ کا الیکشن کل اور پلاسی کی جنگ 23 جون 1757ءکو ہوئی اور دونوںنے تاریخ پر اپناگہرا نقش چھوڑا‘ بنگال ہندوستان کی سب سے بڑی اور امیر ریاست تھی‘پورا جنوبی ہندوستان نواب آف بنگال کی کمان میں تھا‘ سراج الدولہ بنگال کا حکمران تھا‘ دوسری طرف لارڈ رابرٹ کلائیو کمپنی سرکار کی فوج کا کمانڈر تھا‘ انگریز کے ....مزید پڑھئے‎

سینیٹ کا الیکشن کل اور پلاسی کی جنگ 23 جون 1757ءکو ہوئی اور دونوںنے تاریخ پر اپناگہرا نقش چھوڑا‘ بنگال ہندوستان کی سب سے بڑی اور امیر ریاست تھی‘پورا جنوبی ہندوستان نواب آف بنگال کی کمان میں تھا‘ سراج الدولہ بنگال کا حکمران تھا‘ دوسری طرف لارڈ رابرٹ کلائیو کمپنی سرکار کی فوج کا کمانڈر تھا‘ انگریز کے ....مزید پڑھئے‎