پیر‬‮ ، 26 جنوری‬‮ 2026 

حکومتی پالیسی پر عملدرآمد ، کتنے کنٹریکٹ ملازمین کو مستقل کر دیا

datetime 27  ‬‮نومبر‬‮  2019 |

لاہور(این این آئی)پنجاب حکومت کی مروجہ پالیسی کے مطابق لاہور جنرل ہسپتال میں کام کرنے والے سکیل 1سے15کے 200کنٹریکٹ ملازمین کو مستقل کر دیا گیا ۔ملازمین کے سروں پر کنٹریکٹ کی لٹکنے والی تلوار ختم ہونے سے ان میں خوشی کی لہر دوڑ گئی اور اُن کے چہرے یہ خبر سننے کے بعد کھل اٹھے ۔ پرنسپل پوسٹ گریجویٹ میڈیکل انسٹی ٹیوٹ پروفیسر ڈاکٹر سردار محمد الفرید ظفر نے

اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا مستقل ہونے والے سکیل1سے4 کے118 جبکہ سکیل5سے15کے82ملازمین شامل ہیں۔انہوں نے ان تمام افراد کو مبارکباد دیتے ہوئے توقع ظاہر کی کہ وہ اب زیادہ لگن، دلجمعی اور محنت کے ساتھ کام کریں گے اور حکومت اور عوام کے اعتماد پر پورا اتریں گے۔ پروفیسر سردار محمد الفرید ظفر نے کہا کہ مستقل ہونے والے ان ملازمین پر خلق خدا اور دکھی انسانیت کی خدمت کی زیادہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے جسے انہیں پورا کرنے کے لئے اپنی تمام کاوشیں برؤئے کار لانی چاہئیں ۔ میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ایل جی ایچ ڈاکٹر محمود صلاح الدین کا کہنا تھا کہ 200ملازمین کو مستقل کرنے کے لئے ان کی تعلیمی اسناد اور کوائف کی تصدیق کی گئی ہے۔ریگولرائزیشن کے اس عمل سے ہسپتال کے انتظامی امور و علاج معالجہ کا معیار مزید بلند تر ہو گا۔ مریضوں اور جنرل ہسپتال میں آنے والے لوگوں کی بہتر خدمت ہو سکے گی۔انہوں نے کہا کہ ملازمین کا مستقل ہونا اُن کا حق تھا جس کے لئے بر وقت قدم اٹھایا گیا ہے اب ان ملازمین کو بھی اپنی کارکردگی مزید بہتر بنانا ہوگی۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تہران میں کیا دیکھا (سوم)


مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…