جمعرات‬‮ ، 08 اکتوبر‬‮ 2026 

آزادی مارچ کے شرکاء کیساتھ حکومت کیسا سلوک روا رکھے ہوئے ہے؟ حیران کن دعویٰ کر دیا گیا

datetime 11  ‬‮نومبر‬‮  2019 |

عبدالحکیم (این این آئی) جمعیت علمائے اسلام پاکستان (ف) کے مرکزی رہنما مولانا عطا ء  الرحمن نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کے آزادی مارچ کے شرکاء کو سہولیات فراہم کرنے کے دعوے محض خیالی اور جھوٹے ہیں ہم نے اپنے ورکرز کیلئے بدلتے موسم کیساتھ جرسیوں کا ٹرک منگوایا جسکو حکومت نے پکڑ کر تھانے میں بند کر دیا وہ ایک دن تھانے میں بند رہا ہمارا ایک ورکر گر

کر شدید زخمی ہو گیا ہم اسکو راولپنڈی کے سرکاری ہسپتال میں لے گئے وہاں پر حکومت نے اس نوجوان کا علاج نہیں ہونے دیا پھر ہم نے اسکا پرائیویٹ ہسپتال میں علاج کرایا ہمارے ورکرز جس ریسٹورینٹ ہوٹل اور دکان پر جاتے ہیں ان کو سودا سلف نہیں دیا جاتا دکاندار کہتے ہیں کہ ہمیں حکومت نے منع کیا ہے اس کے علاوہ ہمارے کارکنوں کا بسوں کا قافلہ کراچی سے اسلام آباد آرہا تھا کہ راستے میں انہیں وفاقی حکومت کی انتظامیہ نے روک لیا تو ڈرائیور گاڑیاں چھوڑ کر بھاگ گئے انہوں نے کہا کہ حکومت کا شرکاء  کو کھانا و دیگر سہولیات فراہم کرنے کا دعویٰ جھوٹا اور سراسر بدنیتی پر مبنی ہے حکومت نے ہر بات پر یوٹرن لینے کا ٹھیکہ لیا ہوا ہے پاکستان میں سب سے زیادہ مخیر حضرات پی ٹی آئی میں ہیں حکومت نے آزادی مارچ کو کوئی سہولت فراہم نہیں کی عمران کے استعفے تک ہم اسلام آباد میں رہیں گے ہم وزیر اعظم کے استعفیٰ اور فی الفور فیئر الیکشن کے مطالبے سے قطعاً پیچھے نہیں ہٹیں گے حکومت لاکھوں افراد کے اجتماع کو ہزاروں میں شمار کررہی ہے حکومت نے ہمارے مطالبات نہ مانے تو ہمارے کارکن حکومت کو خود چلتا کریں گے مولانا عطاء الرحمن نے کہا کہ ہمارے کارکنوں کے پاس ابھی ایک ماہ کا وافر مقدار میں راشن موجود ہے آزادی مارچ سے واپسی کا تو ابھی ہمارے وہم و گمان میں بھی نہیں ہے حکومتی دعوے کہ ہم ایک دو دن میں احتجاج ختم کردیں گے یہ انجانے کی باتیں ہیں انہوں نے مزید کہا کہ تحریک انصاف کا دھرنا نہیں بلکہ ایک دھرنی تھی ہمارے پاس لاکھوں لوگوں کی افرادی قوت موجود ہے سیلیکٹڈ اور دھاندلی کے ساتھ وجود میں آنے والی حکومت کے خاتمے تک ہمارا احتجاج جاری رہے گا اور ہم ہر حال استعفیٰ لیکر جائیں گے -‎

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دسواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(نواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…