اتوار‬‮ ، 27 ستمبر‬‮ 2026 

وزیر اعظم عمران خان بظاہر پراعتماد لگتے ہیں لیکن بند کمروں میں ساتھیوں سے کیا کہتے ہیں ؟ حامد میر نےبڑادعویٰ کر دیا‎

datetime 7  ‬‮نومبر‬‮  2019 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)سینئر صحافی حامد میر اپنے آج کے کالم ’’شہر خرابی ‘‘ میں لکھتے ہیں کہ ۔۔۔پاکستان کا شہراقتدار کنٹینروں کا دیار بن چکا ہے۔ اقتدار کے ایوانوں کی طرف جانے والی شاہراہوں پر کنٹینروں کی بھرمار ہے۔ یہ بڑے بڑے کنٹینر اُس خوف کا اظہار کر رہے ہیں جو شہر کے ایک کونے میں دھرنا دینے والے ہزاروں باریش افراد کے نعروں نے پیدا کیا ہے۔

مولانا فضل الرحمٰن کی قیادت میں ملک کے دور دراز علاقوں سے آنے والے یہ باریش افراد کئی دن سے ’’گو عمران گو‘‘ کا نعرہ لگا رہے ہیں اور وزیراعظم عمران خان وقفے وقفے سے یہ اعلان کرتے پھر رہے ہیں کہ کان کھول کر سُن لو میں کسی کو این آر او نہیں دوں گا۔این آر او کی اصطلاح پاکستان کی سیاست میں جنرل پرویز مشرف نے متعارف کروائی تھی۔ انہوں نے اپنے اقتدار کے آٹھ سال بعد 2007میں پیپلز پارٹی کے ساتھ قومی مفاہمت کے نام پر ایک معاہدہ کیا جس کے تحت پیپلز پارٹی کی قیادت پر قائم کئی مقدمات ختم ہو گئے۔اس این آر او سے فائدہ اٹھانے والوں میں متحدہ قومی موومنٹ بھی شامل تھی۔کچھ عرصہ کے بعد سپریم کورٹ آف پاکستان کے 17ججوں نے 16دسمبر 2009کے دن مشرف کے جاری کردہ قومی مفاہمتی آرڈیننس کو منسوخ کر دیا۔ ملک کی اعلیٰ ترین عدالت دس سال قبل این آر او کو منسوخ کر چکی ہے لیکن ہمارے وزیراعظم ہر دوسرے دن بےقرار ہو کر للکارتے ہیں کہ وہ کسی کو این آر او نہیں دیں گے۔ان کی یہ للکار شہر اقتدار کی سرکار کے اندر موجود کسی خوف کو چھپانے کی کوشش لگتی ہے۔ عمران خان بظاہر بڑے پُر اعتماد نظر آتے ہیں لیکن بند کمروں میں اپنے ساتھیوں سے کہتے ہیں کہ کسی طریقے سے مولانا فضل الرحمٰن کے ساتھ مفاہمت کا راستہ نکالو۔

مولانا وزیراعظم کا استعفیٰ مانگ رہے ہیں۔ وہ جانتے ہیں اُنہیں استعفیٰ نہیں ملے گا لیکن وہ حکومت کا اعتماد اور دبدبہ ختم کر چکے ہیں۔ شاید وہ کچھ دنوں میں واپس تو چلے جائیں لیکن ان کی واپسی کے بعد عمران خان کی مشکلات کم نہیں ہوں گی کیونکہ عمران خان کا اصل مقابلہ مولانا فضل الرحمٰن کے ساتھ نہیں ہے۔ عمران خان کا اصل مقابلہ عمران خان کے ساتھ ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…