ہفتہ‬‮ ، 10 جنوری‬‮ 2026 

حکومت جے یو آئی (ف)کے دھرنے سے کتنی خوفزدہ ہے ؟ تحریک انصاف کے اہم رہنما نے اندر کی خبر دیدی

datetime 3  ‬‮نومبر‬‮  2019 |

اسلام آباد (این این آئی)وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان نے اپوزیشن کی جانب سے وزیر اعظم کے استعفے کے مطالبہ کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ انتخابات میں شکست کا غم آئندہ الیکشن میں ہی دور ہو سکے گا، خدانخوانستہ اگر مارچ کے دوران کوئی حادثہ یا نقصان ہوا تو معاہدہ کے مطابق اسکی ذمہ دار حکومت نہیں اپوزیشن ہوگی۔

ایک انٹرویومیں علی محمد خان نے کہا کہ پی ٹی آئی کی حکومت جے ایو آئی (ف)کے آزادی مارچ سے قطعاً پریشان نہیں ہے تاہم حکومت کے حوالے سے ان کے بیانات قبول نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت آئین پر یقین رکھتی ہے اور اظہار رائے کی آزادی کو تسلیم کرتی ہے لیکن ہم چند ہزار لوگوں کو یہ اجازت نہیں دیں گے کہ وہ وزیر اعظم سے استعفیٰ طلب کریں۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کے مطالبہ کو ملک کے عوام بھی تسلیم نہیں کرتے۔ انہوں نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مولانا نے کئی سال کشمیر کمیٹی کی سربراہی کی لیکن انہوں نے تنازعہ کشمیر کو کسی بھی عالمی فورم پر اجاگر نہیں کیا۔ علی محمد خان نے کہاکہ وزیر اعظم عمران خان نے مسئلہ کشمیر کو دنیا کے سب سے بڑے فورم پر انتہائی موثر انداز میں پیش کیا ہے جس کی وجہ سے بھارتی غیرآئینی اقدامات پر دنیا بھر میں گفتگو کی جا رہی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ وزیر اعظم عمران خان کی قیادت میں پی ٹی آئی کی حکومت یہ کاوشیں جاری رکھے گی۔ انہوں نے کہا کہ انتخابات میں شکست کا غم آئندہ الیکشن میں ہی دور ہو سکے گا۔ انہوں نے کہا کہ مولانا کو ان کے اپنے ووٹرز نے ہی مسترد کر دیا تھا اور اب وہ نام نہاد آزادی مارچ کی قیادت کر رہے ہیں جس کو میں بربادی مارچ کہتا ہوں ۔ ایک سوال کے جواب میں وزیر مملکت نے کہا کہ خدانخوانستہ اگر مارچ کے دوران کوئی حادثہ یا نقصان ہوا تو معاہدہ کے مطابق اسکی ذمہ دار حکومت نہیں بلکہ اپوزیشن ہوگی۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا


والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…