جمعرات‬‮ ، 26 فروری‬‮ 2026 

اثاثوں میں ہتھیار ظاہر کرنے میں ارکان سندھ اسمبلی بازی لے گئے

datetime 30  اکتوبر‬‮  2019 |

کراچی(این این آئی)ارکان اسمبلی کی جانب سے ظاہر کردہ اثاثوں میںسندھ اسمبلی کے ارکان کے پاس باقی تینوں صوبائی اسمبلیوں کے ارکان کی ملکیت میں موجود ہتھیاروں سے تقریبا دوگنا ہتھیار ہیں۔سال 2018 کے لیے ارکان اسمبلی کی جانب سے جمع کروائے گئے اثاثوں کے مطابق چاروں صوبائی اسمبلیوں سے تعلق رکھنے والے 71 ارکان نے اپنے ذاتی ہتھیار ظاہر کیئے ہیں،

جن میں47ارکان کا تعلق سندھ اسمبلی جبکہ بقیہ24کا تعلق دیگر تینوں اسمبلیوں سے ہے۔ظاہر کردہ اثاثوں کے مطابق پاکستان پیپلزپارٹی کے رکن سندھ اسمبلی نواب سردار خان چانڈیوکے پاس سب سے زیادہ 60 لاکھ روپے مالیت کے ہتھیار موجود ہیں، جس کے بعد سابق صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن 25 لاکھ روپے کے ہتھیاروں کے مالک ہیں۔سندھ اسمبلی کے دیگر ارکان جن کے ہتھیاروں کی مالیت 10 لاکھ روپے سے زائد ہے ان میں سابق صوبائی میر نادر علی مگسی18لاکھ روپے،علی حسن زرداری17لاکھ روپے،فریال تالپور14لاکھ80 ہزار روپے جبکہ سندھ اسمبلی کے اسپیکر آغا سراج درانی اور وزیر ایکسائز مکیش کمار چائولہ کے پاس 15، 15 لاکھ روپے کے ہتھیار ہیں۔اسی طرح وزیر انٹی کرپشن وآب پاشی سہیل انور سیال نے اپنے اثاثوں میں8لاکھ46ہزار روپے کے ہتھیار ظاہر کیے جبکہ پاکستان تحریک انصاف کے سندھ اسمبلی میں پارلیمانی لیڈرحلیم عادل شیخ نے 9 لاکھ 32 ہزار روپے کے ہتھیارظاہر کیئے ہیں۔



کالم



ہائوس آف شریف


جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…