پیر‬‮ ، 19 جنوری‬‮ 2026 

دعوت ملے بغیر ہی بھارتی صحافی کرتار پور راہداری کے افتتاح کی کوریج کیلئے پاکستان کو ویزا درخواستیں جمع کرانے لگے،آنے کی اجازت دی جائیگی یا نہیں،فیصلہ کس پر چھوڑ دیا گیا؟‎‎

datetime 29  اکتوبر‬‮  2019 |

لاہور(سی پی پی)کرتار پور راہداری کی افتتاحی تقریب کی کوریج کے لئے بھارتی صحافیوں نے نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن میں ویزا کے لئے درخواستیں جمع کروانا شروع کردی ہیں۔پاکستان کی طرف سے گزشتہ سال نومبر میں کرتار پور راہداری کے سنگ بنیاد کی تقریب میں شرکت اور کوریج کے لئے 40 بھارتی صحافیوں کو مدعو کیا گیا تھا۔

افتتاحی تقریب میں بھارتی میڈیا کو مدعو کئے جانے کا ابھی کوئی فیصلہ تو نہیں ہوا ہے تاہم بھارتی صحافیوں نے پہلے ہی ویزا درخواستیں جمع کروانا شروع کردی ہیں۔نئی دہلی میں پاکستانی سفارتخانے کے حکام نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ بھارتی صحافیوں کی طرف سے بڑی تعداد میں ویزا درخواستیں جمع کروائی جارہی ہے تاہم پاکستان نے ابھی تک ویزا جاری کرنے کے حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے۔ اگر وزارت خارجہ نے بھارتی میڈیا کو کوریج کی اجازت دی تو پھر بھارتی صحافیوں کو ویزے جاری کردیئے جائیں گے۔ اس سے قبل پاکستان نے کرتار پور راہداری سے متعلق پاکستان میں ہونے والے پاک بھارت مذاکرات کی دوسری بیٹھک کی کوریج کے لئے بھارتی میڈیا کو واہگہ بارڈر آنے کی اجازت دی تھی لیکن بھارت کی طرف سے کسی بھی تقریب میں پاکستانی صحافیوں کو مدعو نہیں کیا گیا ہے۔دوسری جانب سفارتی ذرائع کے مطابق کرتارپورراہداری کے راستے بھارت سے جو پہلا جتھہ 9 نومبر کو گوردوارہ دربار صاحب آئے گااس کی فہرست تیارکرلی گئی ہے۔ 9 نومبرکو بھارت سے مختلف گروپوں کی شکل میں 550 سے زائد افرادکی آمد متوقع ہے۔ بھارت کی سیاسی جماعت کانگریس کی طرف سے بھی ایک وفد 9 نومبرکے دن گوردوارہ دربارصاحب آئے گا جس میں بھارت کے سابق وزیراعظم ڈاکٹرمنموھن سنگھ اور مشرقی پنجاب کے وزیراعلیٰ کیپٹن امریندرسنگھ شامل ہوں گے۔ تاہم اس وفد میں کانگریس کے رہنما نوجوت سنگھ سدھوکا نام شامل نہیں ہے جن کی درخواست پرپاکستان نے کرتارپور راہداری کھولنے کی یقین دہانی کروائی تھی۔

موضوعات:



کالم



چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے


اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…