ہفتہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2026 

پیمرا کی جانب سے پابندی عائد کئے جانے پر ٹی وی اینکرز کا شدید ردعمل سامنے آگیا

datetime 28  اکتوبر‬‮  2019 |

اسلام آباد (این این آئی) پاکستان کے معروف ٹی وی اینکرز نے پیمرا کی جانب سے اینکرز کو دوسرے ٹی وی چینل پر سیاسی معاملات سے متعلق تجزیہ دینے پر پابندی کی سخت الفاظ  میں مذمت کرتے ہوئے  یہ پابندیاں آمرانہ، ظالمانہ اور آزادی اظہار کے خلاف فیصلہ قرار دیدیا۔ ایک مشترکہ بیان میں اینکرز نے پیمرا کے احکامات کو آئین پاکستان کے خلا ف قرار دیتے ہوئے کہاکہ

یہ پیمرا کا دائرہ کار ہی نہیں کہ وہ پروگراموں کے مہمانوں، ماہرین اور تجزیہ نگار وں کے حوالے سے فیصلہ کرے۔بیان میں کہاگیاکہ پیمرا کے احکامات کے مطلب یہ ہے کہ ریاست فیصلہ کرے گی کہ کون کس موضوع با ت کر ے، یہ ریاست  اور اداروں کا کام نہیں ہے کہ  فیصلہ کرے کون صحافی ہے اور کون صحافی نہیں ہے۔اینکرز نے کہاکہ وہ وزیر اعظم عمران خان کی تحریک انصاف کی حکومت کو اس فیصلے کا ذمہ دار سمجھتے ہیں۔بیان میں کہاگیاکہ آئین کے مطابق منتخب حکومت تمام اداروں کے فیصلوں کی جواب دہ ہے،یہ ضروری نہیں کہ کون فرنٹ اور کون بیک پر ہے۔بیان میں کہاگیاکہ ہم حکومت کو یاد دلانا چاہتے ہیں کہ پاکستان میں میڈیا کی مزاحمت کی ایک لمبی تاریخ ہے، ہم نے جمہوریت اور جمہوری اقدار کی بحالی کیلئے ڈکٹیٹر شپ کے خلاف لڑے ہیں۔انہوں نے کہاکہ ہم نے دہشتگردی اور شدت پسندی کے خلاف بھی جنگ کی ہے،ہم نے اس جنگ میں سینکڑوں ساتھی کو کھویا ہے اور سختیاں، دھمکیاں، ہراساں کر نے کے واقعات کا سامنا اور ہزاروں صحافیوں بے روز گار کر تے ہوئے دیکھا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہم جانتے ہیں کہ حقوق کیلئے جنگ کیسے کی جائے؟۔انہوں نے کہاکہ جمہوریت کی بقاء کیلئے اختلاف رائے اہم ہے،اس کے تحفظ کیلئے ہم کسی بھی حد تک جاسکتے ہیں حتیٰ کہ قومی اور بین الاقوامی سطح پر تحریک بھی شروع کر سکتے ہیں۔بیان میں کہاگیاکہ ہم فوری طورپر پیمرا کے نوٹیفکیشن کی واپسی کا مطالبہ کرتے ہیں،

ہم صحافیوں کو بڑھتے ہوئے ایڈوائس اور ہراساں کر نے کے واقعات کے فوری روکنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔بیان میں کہاگیاکہ ہم صحافیوں کے براہ راست اور باالواسطہ دھمکیوں کو بند کر نے کا مطالبہ کرتے ہوئے،جن صحافیوں اور اینکرز نے بیان جاری کیا ہے اس میں حامد میر، محمد مالک، کاشف عباسی، عامر متین، مہر عباسی، اویس توحید،عاصہ شیرازی، ارشد شریف، رؤف کلاسرا،مظہر عباس،شاہ زیب خانزادہ،منصور علی خان،نسیم زہرا،طاہر خان،منزے جہانگیر اور شوکت پراچہ شامل ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…