کرتار پور راہداری پر سکھ یاتریوں کی کلیئرنس میں تیزی لانے کیلئے80 امیگریشن کاؤنٹرز قائم،تفصیلات جاری

  پیر‬‮ 28 اکتوبر‬‮ 2019  |  18:17

لاہور (این این آئی) کرتار پور راہداری پر بھارت سے آئے سکھ یاتریوں کی کلیئرنس کے عمل میں تیزی لانے کیلئے 80 امیگریشن کاؤنٹرز قائم کر دیئے گئے ہیں۔ گزشتہ ہفتے پاکستان اور بھارت کے درمیان کرتارپور راہداری کے معاہدے پر دستخط ہوئے تھے جس کے تحت بھارت کے سکھ یاتری بغیر ویزے پاکستان میں موجود اپنے چند مقدس مقامات کا دورہ کر سکیں گے ۔کرتارپور راہداری معاہدے کے مطابق روزانہ 5 ہزار سکھ یاتری اس راہداری کا استعمال کرتے ہوئے گوردوارہ دربار صاحب کا دورہ کرسکیں گے جہاں گرو نانک نے اپنی زندگی کے آخری 18 سال گزارے تھے۔میڈیا رپورٹس


کے مطابق وزارت داخلہ کی جانب سے بھارت سے آئے یاتریوں کی سہولت کیلئے تین داخلی راستے بنائے گئے ہیں۔فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) یاتریوں کی کلیئرنس لسٹ اْن کی آمد سے 10 روز قبل بھارتی حکام کو بھیجے گی۔کرتار پور راہداری پر بھارت سے آئے سکھ یاتریوں کی کلیئرنس کے عمل میں تیزی لانے کیلئے 80 امیگریشن کاؤنٹرز بھی قائم کردیئے گئے ہیں۔میڈیارپورٹس کے مطابق پاکستان رینجرز کیزیر نگرانی خصوصی بسوں میں یاتریوں کو گوردوارہ دربار صاحب لے جایا جائے گا جبکہ گوردوارے میں داخل ہونے سے قبل اْن کے پاسپورٹ اسکین کیے جائیں گے۔پاکستان اور بھارت دونوں ممالک سے آئے یاتریوں کو گوردوارہ دربار صاحب میں داخلے سے قبل بائیو میٹرک سکریننگ کروانی ہوگی، اس کے علاوہ زیارت کیلئے آئے یاتری واپسی کیلئے اْسی گیٹ کا استعمال کریں گے جہاں سے وہ تصدیق کے بعد اندر آئے تھے۔رپورٹ کے مطابق وزارت داخلہ نے راہداری پر کارروائیوں میں آسانی پیدا کرنے کیلئے 169 انسپکٹر اور سب انسپکٹر، کانسٹیبل اور خواتین کانسٹیبل کے علاوہ دو اسسٹنٹ ڈائریکٹر اور ایک ڈپٹی ڈائریکٹر مقرر کیا ہے۔کرتارپور راہداری پر زیارت کیلئے آئے یاتریوں سے 20 ڈالر سروس چارجز لئے جائیں گے۔پاکستان امیگریشن حکام ہر بھارتی یاتری کو ایک ’بار کوڈ‘ والا کارڈ جاری کریں گے، بھارتی یاتریوں کی آمد صبح 8سے دن 12بجے تک ہوگی اور غروب آفتا ب تک سب یاتریوں کو واپس جانا ہوگا۔وزیر اعظم عمران خان 9نومبر کو کرتارپور راہداری کا افتتاح کریں گے جبکہ بابا گرو نانک کے 550 ویں جنم دن کی تقریبات کا آغاز 12 نومبر سے کیا جائے گا۔

موضوعات:

loading...