اتوار‬‮ ، 16 اگست‬‮ 2026 

بلوچستان یونیورسٹی میں طالبات کو جنسی طور پر ہراساں کر نے اور بلیک میلنگ کا معاملہ سنگین ہوگیا،صوبے بھر میں مظاہرے

datetime 20  اکتوبر‬‮  2019 |

کوئٹہ (این این آئی)نیشنل پارٹی کی مرکزی کال پر بلوچستان یونیورسٹی میں طالبات کو جنسی طور پر ہراساں کر نے اور بلیک میلنگ کے خلاف پر یس کلب کوئٹہ،تربت، خضدار، حب لسبیلہ، نصیر آباد، کوہلو، پنجگور، نوشکی، خاران، چاغی، مستونگ، بولان، واشک، جعفر آباد، بارکھان سمیت پورے بلوچستان میں احتجاجی مظاہرے کئے گئے، کوئٹہ پریس کلب کے باہر احتجاجی جلسے سے پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنر ل جان محمد بلیدی، مرکزی سیکرٹری اطلاعات ڈاکٹر اسحاق بلوچ،

ضلع کوئٹہ کے صدر حاجی عطاء محمد بنگلزئی،بلوچستان کے نائب صدر رحمت صالح بلوچ،خواتین صوبائی سیکرٹری ڈاکٹر شمع اسحا ق بلوچ، ممبر سینٹر ل کمیٹی نیاز بلوچ، صوبائی سیکرٹری اطلاعات علی احمد لانگو،ڈپٹی جنرل سیکرٹری حاجی عبدالصمد رند، بی ایس او کے وائس چیئر مین ملک زبیر بلوچ، صوبائی ورکنگ کمیٹی کے رکن مشکور بلوچ، صوبائی سیکرٹری میڈیا سعد دہوار صوبائی فنانس سیکرٹری سعید سمالانی نے خطاب کیا، احتجاجی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی سیکرٹری جنرل جان محمد بلیدی نے کہا کہ بلوچستان یونیورسٹی میں اس گھناؤنے عمل میں سابقہ وائس چانسلر اسکی پوری انتظامی ٹیم ملوث ہے صرف وائس چانسلر کی معطلی کافی نہیں اس دوران انکی پوری ٹیم کو برطرف کر کے ایف آئی اے کی تحقیقات اور ثبوتوں کی روشنی میں انکو کیفر کردار تک پہنچایا جائے انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس واقعے کو دس ہوگئے لیکن صوبائی حکومت خاموش ہے اسمبلی میں کمیٹی بنائی گئی کہ واقعہ کی تحقیقات کی جائیں گی اس قسم کی کمیٹی کا قیام اس سلگتے ہوئے اہم مسئلے کو سردخانے میں ڈالنے کے مترادف ہے انہوں نے کہا کہ انتہائی افسوس کا مقام ہے کہ کمیٹی توبنائی گئی لیکن کمیٹی کے اراکین چیئر مین کے انتخاب پر آپس میں الجھ گئے یہ کمیٹی اتنے سنگین واقعہ کی کیا تحقیقات کر یگی

بلکہ اس مسئلے کو مزید پیچیدہ اور التواء میں ڈال دے گی،انہوں نے کہا کہ بلوچستان یو نیورسٹی کی بد انتظامی اور نااہل وائس چانسلر کے اقدامات کے خلاف نیشنل پارٹی نے اسمبلی میں قرار داد پاس کی اور اس کے بعد ایف آئی اے نے تحقیقات کی اورسارے ثبوت موجود ہیں انکی روشنی میں سابقہ وائس چانسلر اور اسکی پوری نا اہل کرپٹ انتظامیہ کے خلاف مقدمہ قائم کر کے انہیں گرفتار کیا جائے،انہوں نے کہا کہ سابقہ وائس چانسلر نے `1992میں بھی ایک طالبہ کے ساتھ غیر اخلاقی حرکات کیں

جسکی وجہ سے انہیں استعفیٰ دینا پڑا تھا،خفیہ کیمروں کی تنصیب بغیر وائس چانسلر کی منظوری کے ہو نہیں سکتی انہوں نیکہا کہ اس قسم کے غیر اخلاقی اقدامات کا مقصد صرف یہ ہے کہ بلوچستان کے طلبا ء اور طالبات پر درس و تدریس کے دروازے بند کئے جائیں جو بلوچستان کے لئے تعلیم دشمنی ہے، انہوں نے کہا کہ ایک طرف پورا بلوچستان اور ملک اس واقعہ کے خلاف سراپا احتجاج ہے لیکن ایک قوم پرست جماعت کے رکن اسمبلی نے جاکر وائس چانسلر سے ملاقات کر کے اپنے کچھ لوگوں کی تعیناتی کروائی ہے وائس چانسلر اور انکی انتظامی ٹیم کے خلاف تعیناتی سے لیکر آج تک تحقیقات کی جائیں جس میں مالی بدعنوانی، ڈگریوں کی بند ربانٹ،اقربا ء پروری اور غیر قانونی تعیناتیاں شامل ہونی چاہئیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…