بدھ‬‮ ، 07 اکتوبر‬‮ 2026 

کاؤنٹ ڈاؤن شروع،مولانافضل الرحمان کے حکم پر 25ہزار سے زائد دھرنا شرکاء جڑواں شہروں میں پہنچ گئے

datetime 20  اکتوبر‬‮  2019 |

اسلام آباد(آن لائن) آزادی مارچ سے قبل جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے حکم پر 25ہزار سے زائد شرکا ء جڑواں شہروں میں پہنچ چکے ہیں، عزیز و اقارب کے پاس اور پرائیویٹ رہائش حاصل کر لیں۔ معتبر ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ

جے یو آئی فضل الرحمان کے 25 ہزار کے قریب کارکنان اپنے قائد کے حکم پر جڑواں شہروں میں قیام پذیر ہو گئے ہیں، اور ہزاروں افراد نے وفاقی دارالحکومت اور جڑواں شہر راولپنڈی کے دیہی علاقوں میں اپنی رہائشیں رکھ لی ہیں، ترنول، گولڑہ، بھارہ کہو، ڈھوک کالا خان، ترامڑی، سلطانہ فاؤنڈیشن، روات، سہالہ، چکری اور راولپنڈی کے علاقہ اڈیالہ روڈودیگر علاقوں میں ہزاروں افراد نے اپنے رشتہ داروں، عزیز و اقارب اور پرائیویٹ رہائش اختیار کر لی ہے ۔ ہاؤسنگ سوسائٹیز سیکٹرز میں زیر تعمیر پلازے بھی عارضی طور پر حاصل کر لئے گئے ہیں، دوسری جانب وفاقی حکومت وفاق کو صرف پوش سیکٹرز کا نام دیکر سیکیورٹی سخت کیے ہوئیہے، مکر مولانا فضل الرحمان گروپ کے حامیوں کی دیہی علاقو ں میں بڑی تعداد پائی جاتی ہے نیبز اسلام آباد، راولپنڈی میں جمعیت علماء اسلام کے مدارس میں بھی ہزاروں کی تعداد میں ملک کے مختلف علاقوں سے کارکنان پہنچ چکے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(نواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…