گندم کی بوری پر 1100 کا ریکارڈ اضافہ،عوام کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالنے کیلئے ناجائز منافع خوروں اور ذخیرہ اندوزوں کو کھلی چھٹی دیدی گئی

  بدھ‬‮ 16 اکتوبر‬‮ 2019  |  19:54

حیدرآباد(آن لائن) حیدرآباد سمیت سندھ بھر میں 100 کلو گندم کی بوری پر 1100 سو روپے تک کا ریکارڈ اضافہ۔ذخیرہ اندوز بے قابو۔حکومتی رٹ کو چیلنج۔گندم کے نرخوں میں اضافہ کے بعد آٹا کی فی کلو قیمت میں بھی اضافہ۔ہولسیل میں 54 سے 56 روپے فی کلو تک فروخت ہونے لگا۔بار۔بار نشاندہی کے باوجود ذخیرہ اندوزوں کی جانب سے غیر قانونی طور پر خفیہ مقامات پر چھپائی گئی لاکھوں ٹن گندم بازیاب کرانے میں حکومت تاحال ناکام۔ناجائز منافع خوروں اور ذخیرہ اندوزوں کو عوام کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالنے کی کھلی چھوٹ دے دی گئی۔ضلعی انتظامیہ اور محکمہ خوراک سندھ کے


افسران نے ذخیرہ اندوزوں کے سامنے ہاتھ اوپر کردئیے۔ حکومت کی جانب سے آٹا چکیوں اور رولرز ملز کو تاحال گندم کے چالان جاری نہیں کئیے جارہے۔اور نہ ہی گندم کی قیمت فروخت کا اعلان کیا گیا ہے۔گندم اور آٹا کی قیمتوں میں مذید اضافہ کا خدشہ۔ تفصیلات کے مطابق حیدرآباد سمیت سندھ بھر میں گزشتہ چند ماہ کے دوران 100 کلو گندم کی بوری کی قیمت میں 1100 سو روپے تک کا ریکارڈ اضافہ کردیا گیا ہے۔گزشتہ چند ماہ قبل 2950 سے 3000 ہزار روپے میں فروخت ہونے والی 100 کلو گندم کی بوری کی قیمت بڑھکر،4100 سو روہے تک جاپہنچی ہے۔گندم کی قیمت میں اضافہ کے بعد آٹا چکی۔اور رولر ملز مالکان نے بھی آٹا کے نرخوں میں اضافہ کردیا ہے۔آٹاہولسیل میں 54 سے،56 روپے فی کلو تک فروخت ہونے لگا۔مہنگاء کے ہاتھوں پریشان عوام کی قوت خرید جواب دے گئی۔واضح رہے کہ رواں سال سندھ حکومت کی جانب سے آبادگاروں سے گندم خرید نہ کرنے کا ذخیرہ اندوزوں اور ناجائز منافع خوروں نے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے لاکھوں ٹن گندم غیر قانونی طور پر خفیہ مقامات پر چھپا لی۔جس کی باربار نشاندہی کے باوجود حکومت۔ضلعی انتظامیہ اور محکمہ خوراک کے افسران چھپاء گء گندم بازیاب کرانے میں تاحال ناکام رہے ہیں۔جس کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے حیدرآباد اور کراچی سمیت سندھ بھر کی اوپن مارکیٹ میں گندم کی مصنوعی قلت پیدا کرکے من مانے ریٹ وصول کئیے۔اور حکومت نے بھی ذخیرہ اندوزوں کو عوام کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالنے کا پورا موقع فراہم کیا۔ دوسری جانب سندھ حکومت جو ہر سال ماہ ستمبر میں آٹا چکیوں اور رولرز ملز کو سرکاری گندم کے چالان کا اجرا کرتی ہے تاحال خاموشی اختیار کئے ہوئے ہے۔ذرائع کے مطابق سندھ حکومت اکتوبر کا نصف ماہ گزرنے کے باوجود گندم فروخت قیمت کا اعلان نہیں کرسکی ہے۔جس کی وجہ سے ذخیرہ اندوزوں کے حوصلے مسلسل بلند ہوتے جارہے ہیں اور وہ حکومتی رٹ کو بھی چیلنج کئیے ہوئے ہیں۔جنہیں درپردہ افسران کی آشیرباد حاصل ہے۔ذرائع کے مطابق اس وقت بھی سندھ بھر کی کاٹن فیکٹریوں۔دال ملز۔سمیت خفیہ مقامات پر گندم کی لاکھوں بوریاں موجود ہیں جن کی بازیابی کے لئیے ضلعی انتظامیہ اور محکمہ خوراک کے افسران کارواء کرنے سے مسلسل گریز کر رہے ہیں۔اس ضمن آٹا چکی اونرز سوشل ویلفئیر ایسوسی ایشن حیدرآباد کے صدر حاجی محمد حفیظ خانزادہ کا کہنا ہے کہ ایسوسی ایشن حکومت اور ذمہ دار اداروں کو اس صورتحال سے مسلسل آگاہ کرتی آرہی ہے مگر اس جانب کوء توجہ نہیں دی جارہی جس کی وجہ سے ذخیرہ اندوزوں کے حوصلے بلند ہوتے جارہے ہیں۔ ذخیرہ اندوزوں نے من مانیاں کرتے ہوئے گزشتہ چند ماہ کے دوران 100 کلو گندم کی بوری پر اب تک ریکارڈ 1100 سو روپے کا اضافہ کردیا ہے جس میں مذید اضافہ کا خدشہ ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے ذخیرہ اندوزوں جو عوام کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالنے کی کھلی چھوٹ دے رکھی ہے۔انہوں نے سرکاری گندم کے چالان فوری جاری کرنے اور ذخیرہ اندوزوں کی جانب سے چھپائی گئی گندم کو فوری بازیاب کراکر فروخت کے لئے اوپن مارکیٹ میں لانے کا مطالبہ کیا۔

loading...