منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

حکومت فوج کو معیشت میں الجھا کر کیا کرنا چاہتی ہے؟ ن لیگ نے انتہائی سنگین الزامات عائد کردیئے

datetime 10  اکتوبر‬‮  2019 |

لاہور(این این آئی)پاکستان مسلم لیگ (ن)کے سیکرٹری جنرل احسن اقبال نے کہاہے کہ آج پاکستان میں جمہوریت کو فسطائیت میں تبدیل کیا جا رہا ہیں پاکستان میں جناح کی ڈاکٹرائین کے علاوہ کوئی نظریہ نہیں چل سکتا، 2020 انتخابات کا سال ہو گا، حکومت اپنی ناکامیوں کا ملبہ قومی اداروں پرپھینک رہی ہے، فوج کو معیشت میں الجھا کر حکومت خود مہنگائی، بیروزگاری اور غربت کے الزام سے بچنا چاہتی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے وکلاکنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

احسن نے کہا کہ سوچنا ہے ہم 72 سال سے کیوں قائد اعظم کے وژن کے متلاشی ہیں؟،جنوبی ایشیا ء کے تمام ملک ہم سے کیوں آگے نکل گئے؟ جس ملک میں عوام کی حکمرانی تسلیم نہیں کی جاتی وہ پیچھے رہ جاتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ نواز شریف کا ووٹ کو عزت دو اب قومی نعرہ بن چکا ہے۔ نواز شریف اور مسلم لیگ (ن) کے دیگر اسیران کا قصور آئینی بالادستی کی بات کرنا ہے۔ احسن اقبال نے کہاکہ نوازشریف کی قیادت میں مسلم لیگ (ن)نے ملک سے لوڈ شیڈنگ اور دہشتگردی کو شکست دی۔ مردہ معیشت میں جان ڈالی، پاک چین دوستی کے مظہر سی پیک کو زندہ حقیقت بنا کر دکھایا۔ پاکستان مسلم لیگ (ن)کو دھاندلی سے ہرا کر اناڑی قوم پر مسلط کردیا گیا۔ ملک کو اقتصادی پالیسیوں میں تسلسل کی ضرورت تھی جسے تہس نہس کر دیا گیا۔ عمران نیازی نے ایک سال میں ہنستا بستا پاکستان اجاڑ کر رکھ دیا۔ صنعتکار، تاجر، مزدور، کسان، طالب علم، مزدور سب دہائیاں دے رہے ہیں۔ معیشت، کشمیر، قانون کی حکمرانی، وفاق اور قومی اداروں کی ساکھ کو بدترین چیلنجز درپیش ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ملک کے بحران کا واحد حل فوری نئے عام انتخابات ہیں۔ عمران نیازی کی حکومت ایک سال مزید رہ گئی تو معیشت ناقابل اصلاح ہو جائے گی۔ احسن اقبال نے کہاکہ ملک کو یکجہتی اور اتحاد کی ضرورت ہے جبکہ عمران نیازی حسد، انتقام، نفرت اور تکبر کا بیوپاری ہے۔

پاکستان کے شہیدوں کا لہو پکار رہا ہے کہ پاکستان کی بربادی کو روکو۔ اناڑی موٹرسائیکل نہیں چلا سکتا 22 کروڑ کے ملک کو کیسے چلا سکتا ہے؟ حکومت اپنی ناکامیوں کا ملبہ قومی اداروں پرپھینک رہی ہے۔ فوج کو معیشت میں الجھا کر حکومت خود مہنگائی، بیروزگاری اور غربت کے الزام سے بچنا چاہتی ہے۔ پاکستان کو قائداعظم کے خوابوں کی تعبیر بنانے کے لئے

چارٹر آف ڈیموکریسی کی ضرورت ہے۔ جیسے دل دماغ کااور جگر پھیپھڑے کا کام نہیں کرسکتا، اسی مثال کے مطابق کوئی ادارہ کسی دوسرے ادارے کا کام نہیں کر سکتا۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان میں قومی اداروں کی ساکھ ملیامیٹ ہو رہی ہے، ادارے کمزور ہوں تو معاشرے برباد ہو جاتے ہیں۔ سیاستدانوں، فوج، عدلیہ، اور میڈیا کو ملک کو درپیش سنگین چیلنجز بھانپنا ہوں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…