جمعہ‬‮ ، 19 جون‬‮ 2026 

تاجر تنظیموں پر لاٹھی چارج، تاجروں نے ملک گیر ہڑتال کا اعلان کر دیا

datetime 9  اکتوبر‬‮  2019 |

اسلام آباد (آن لائن)تاجروں نے حکومت کی معاشی پالیسیوں کیخلاف وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں احتجاج کیا،حساس علاقے میں داخل ہونے سے روکنے پر مظاہرین اور پولیس کے درمیان تصادم،تاجروں نے سرینا چوک پر لگی خار دار تاریں پھلانگنے اور ریڈ زون میں داخل ہونے کی کوشش کی، پولیس نے مظاہرین پرآنسو گیس کے گولے فائر کیے۔تفصیلات کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر)کے ٹیکسز، خرید و فروخت کیلئے شناختی کارڈ کی شرط اور

مذاکرات میں حیلے بہانوں سے اکتائے ملک بھر کی تاجر تنظیموں نے آل پاکستان انجمن تاجران کی کال پر اسلام آباد میں احتجاج کیا۔ملک بھر سے آئے ہوئے تاجر ہاکی گرانڈ میں جمع ہوئے جہاں سے شرکا نے ایف بی آر کے دفتر کے باہر احتجاجی مظاہرے کیلئے مارچ شروع کیا تو سرینا چوک پر انہیں روک دیا گیا۔اس دوران پولیس اور مظاہرین آمنے سامنے آگئے جس پر پولیس نے لاٹھی چارج کیا جبکہ تاجروں نے پتھرا کیا اور سرینا چوک پر لگی خار دار تاریں پھلانگنے اور ریڈ زون میں داخل ہونے کی کوشش کی۔ بعد ازاں تاجروں نے سرینا چوک پر ہی دھرنا دے دیا جس پر پولیس کی مزید نفری طلب کرلی گئی۔دوسری جانب تاجروں نے ایف بی آر حکام سے مذاکرات ناکام ہونے کے بعد 15 اکتوبر سے احتجاج کا اعلان کیا ہے۔ اس حوالے سے آل پاکستان انجمن تاجران کے رہنما اجمل بلوچ کا کہنا تھا کہ 15 اکتوبر سے روزانہ ایک گھنٹہ جبکہ 28 اور 29 اکتوبر کو 2 روزہ ملک گیر ہڑتال کی جائے گی۔ مر کزی تنظیم تاجران پاکستان کے صدر محمد کاشف چوہدری نے کہا کہ تاجر برادری کی طر ف سے ایف بی آر کو دی گئی ڈیڈ لائن گزرنے کے بعد ہم نے احتجاج کیا،حکو مت اور ایف بی آر معیشت دشمن پالیسیوں کو زبر دستی کارو باری طبقے پر نافذ کر نے سے گریز کر ے،تاجروں کے چارٹر آف ڈیمانڈ اور مطالبات منظور نہ کیے گئے تو ملک گیر شٹر ڈاو ن کی تاریخوں کا اعلان کردیں گے۔

انھوں نے کہا شناختی کارڈ کے ذریعے خرید و فروخت کی شرط کا خاتمہ مرکزی تنظیم تاجران کی کال اور ہمارے دیے گئے چارٹر آف ڈیمانڈ کی ملک بھر کی تمام تاجر تنظیموں نے بھی توثیق کر دی ہے۔محمد کاشف چوہدری نے کہاہم حکومت سے پوچھنا چاہتے ہیں کہ ملک جمہوری حکومت اور وزیر اعظم عمران خان چلا رہے ہیں یا کہ عالمی مالیاتی ادارے اگرحکومت اگر بااختیار ہے تو آئی ایم ایف کی معاشی ٹیم مشیر خزانہ،گورنر اسٹیٹ بنک و دیگر کو تبدیل کرے اور تاجروں کی سالانہ سیل پر

آسان و سادہ فکس ٹیکس اسکیم لائے،ٹرن اوور ٹیکس کی شرح کو 1.5 % سے 0.25 کرے،تاجروں کو وود ھولڈنگ ایجنٹ بنانے جیسے کالے قانون کو تبدیل کرے اور چھوٹے تاجروں کی بے مقصد سیلز ٹیکس رجسٹریشن،کھاتے و حساب کتاب رکھنے کے قانون کا خاتمہ کرے۔انھوں نے کہا ایف بی آر آڑھتیوں کی سالانہ فیسوں میں اضافہ واپس لے،جیولرز،فرنیچر،ماربل،آٹو انڈسٹری پر لگایا گیا سیل ٹیکس اور وود ہولڈنگ ختم کرے۔یاد رہے کہ حکومت کی جانب سے ٹیکسٹائل، چمڑے، کارپٹ، اسپورٹس اور سرجیکل آلات کیلئے زیرو ریٹنگ سہولت ختم کرکے واپس 17 فیصد سیلز ٹیکس عائد کرنے اور 50 ہزار سے زائد کسی بھی قسم کی خرید و فروخت میں شناختی کارڈ کا ریکارڈ رکھنے کی شرط کے خلاف تاجر برادری نے 13 جولائی کو ملک گیر شٹر ڈان ہڑتال کی تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



فلم میں بھی ہارنے سے انکار


یہ تبلیسی شہر تھا‘ اکتوبر کی 8 تاریخ تھی اور سن…

Pale Blue Dot

کارل ایڈورڈ سیگن (Carl Edward Sagan) خلانورد اور پلانٹری…

نصیب کی مکھی

ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…

8 بجے تک

میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…