ہفتہ‬‮ ، 28 فروری‬‮ 2026 

 نواز شریف کی کی العزیزیہ ریفرنس میں سزا کے خلاف اپیل اور متفرق درخواستوں پرسماعت،فیصلے کی گھڑی آگئی

datetime 6  اکتوبر‬‮  2019 |

اسلام آباد (این این آئی)پاکستان مسلم لیگ (ن)کے قائد،سابق وزیر اعظم نواز شریف کی العزیزیہ ریفرنس میں سزا کے خلاف اپیل اور متفرق درخواستوں پر سماعت  پیر  اسلام آباد ہائی کورٹ میں ہوگی ،جسٹس عامر فارو ق اور جسٹس محسن اختر کیانی پر مشتمل اسلام آباد ہائی کورٹ کا دو رکنی سماعیت کریگا۔ تفصیلات کے مطابق سابق وزیر اعظم اور مسلم لیگ (ن)کے قائد سابق وزیر اعظم محمد نوازشریف کی العزیزیہ ریفرنس میں سزا کے خلاف اپیل پر سماعت پیر کو ہوگی،

جسٹس عامر فارو ق اور جسٹس محسن اختر کیانی پر مشتمل اسلام آباد ہائی کورٹ کا دو رکنی سماعیت کریگا۔ ایک روزقبل سابق وزیر اعظم نواز شریف نے العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس میں سزا کے خلاف اپیل کے ساتھ جج وڈیو اسکینڈل سے متعلق متفرق درخواست اسلام آباد ہائی کورٹ میں جمع کرائی تھی۔اپنے وکیل خواجہ حارث کے توسط سے جمع کروائی گئی اس درخواست میں نواز شریف نے موقف اپنایا کہ ویڈیو اسکینڈل کیس میں جج ارشد ملک کے بیان حلفی اور پریس ریلیز کو اپیل کا حصہ بنایا گیا جو ایک جانب کا موقف ہے۔انہوں نے استدعا کی کہ اس کیس میں دوسرے فریق کو بھی سن کر شواہد کا جائزہ لیا جائے۔دوسری جانب اس کیس کے مرکزی کردار ناصر بٹ نے بھی جج ارشد ملک کے ساتھ ملاقات کی آڈیو اور وڈیو ریکارڈنگ اور اس کی فورنزک رپورٹ کو ریکارڈ کا حصہ بنانے کی درخواست دائر کی گئی۔اپنے وکیل نصیر بھٹہ کے توسط سے جمع کروائی گئی اس درخواست میں ناصر بٹ نے موقف اختیار کیا کہ نواز شریف کی اپیل کے ساتھ اضافی دستاویزات لگانے کی اجازت دی جائے جن میں جج ارشد ملک سے ملاقات کی آڈیو وڈیو ریکارڈنگ، متعلقہ آڈیو وڈیو ریکارڈنگ کی فورنزک رپورٹ اور نوٹرائزڈ ٹرانسکرپٹ شامل ہے۔درخواست میں کہا گیا کہ ارشد ملک نے 6 جولائی کی پریس کانفرنس کے نتیجے میں سات جولائی کو پریس ریلیز جاری کی اور 11 جولائی کو بیان حلفی جمع کرایا جس میں میرے خلاف بے بنیاد الزامات عائد کیے

اور اپنی ملاقات کی آڈیو وڈیو ریکارڈنگ سے انکار کیا جو غلط ہے۔اپنی درخواست میں ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ مجھ پر متعلقہ جج کی جانب سے الزام عائد کیا گیا کہ میں نے نواز شریف کے حق میں فیصلہ دینے کے لیے جج کو دھمکیاں دیں جو سراسر بے بنیاد الزام ہے۔ناصر بٹ نے استدعا کی کہ چونکہ عدالت نے ارشد ملک کے بیان حلفی اور پریس ریلیز کو نواز شریف کی اپیل کے ریکارڈ کا حصہ بنایا اس لیے انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے اس سے متعلق دیگر دستاویزات کو بھی ریکارڈ کا حصہ بنانے کی اجازت دی جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ہائوس آف شریف


جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…