اتوار‬‮ ، 16 اگست‬‮ 2026 

وہ غلط نہیں تھے تو پھر ان کی زندگی کو کیوں خطرے میں ڈالا گیا؟ننھے پروفیسر حماد صافی نے صحت یاب ہونےکے بعداپنی بیماری سے متعلق سوشل میڈیا پرکیا پیغام جاری کردیا؟‎

datetime 1  اکتوبر‬‮  2019 |

اسلام آباد (این این آئی)پاکستان کے ننھے پروفیسر حماد صافی شدید علالت کے بعد صحت یاب ہو کر ہسپتال سے گھر منتقل ہوگئے ۔انہوں نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر اپنے مداحوں کو آگاہ کیا کہ وہ کامیاب آپریشن کے بعد اسپتال سے گھر منتقل ہوگئے ہیں اور اْن کی طبیعت بالکل ٹھیک ہے۔انہوں نے لکھا کہ انشاء اللّہ آپ سب کی دعاؤں سے چار سے پانچ دن کے اندر وہ اپنے پاؤں پر دوبارہ کھڑے ہو جائیں گے۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز حماد نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ پر دعاؤں کی درخواست کرتے ہوئے اطلاع دی تھی کہ وہ شدید علالت کے باعث الشفا اسپتال اسلام آباد میں زیر علاج ہیں۔سماجی رابطے کی ویب سائٹس پر حماد کے اکاؤنٹس پر ایک طویل پوسٹ شیئر کی گئی تھی جس میں حماد نے پوری قوم سے درخواست کی تھی کہ میرے لئے خصوصی دعا کریں۔حماد نے اپنے فیس بک پیج پر بتایا کہ وہ ہسپتال کے بیڈ پر موجود ہیں جہاں اْن کے اپنڈکس کے جزیات معائنے کے لئے بھیجے جاچکے ہیں جو تین دن پورے ہونے کے بعد واپس آجائیں گے۔انہوں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ اگر اپنڈکس پھٹ جاتا ہے تو اسکا کیا مطلب ہے یہ آپ بخوبی جانتے ہیں۔ حماد کی پوسٹ کے مطابق کچھ دن پہلے انہیں پیٹ میں درد کی شکایت ہوگئی تھی اور کھانا کھانے سے بھی ہاتھ کھینچ لئے تھے جسکی وجہ سیانہیں الشفا انٹرنیشنل اسلام آباد معائنے کے لئے لے جایا گیا۔چیک اپ کے بعد ڈاکٹر نے تندرست قرار دے کر گھر واپس بھیج دیا۔اس کے تین دن بعد گھر پر ایک بار پھر انہوں نے شدید درد کی شکایت کی جس پر ایک بار پھرانہیں الشفا ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں پر چیک اپ کے بعد بتایا گیا کہ اْن کا اپنڈکس پھٹ گیا ہے جس کا ہنگامی بنیادوں پر آپریشن ضروری ہے۔

اہل خانہ کی اجازت کے بعد لیزر ٹیکنالوجی کی مدد سے اْن کا آپریشن کردیا گیا۔حماد نے سوشل میڈیا پوسٹ میں یہ سوال بھی اٹھایا کہ کیا تین دن پہلے کیے گئے ٹیسٹ غلط تھے اگر وہ غلط نہیں تھے تو پھر اْن کی زندگی کو کیوں خطرے میں ڈالا گیا؟حماد نے یہ بھی لکھا کہ ہسپتال والوں نے اْن کے والدین کو بتایا کہ انہوں نے حماد کو وقت پر پہنچایا ورنہ حالات کچھ بھی ہوسکتے تھے۔انہوں نے لکھا کہ تین دن قبل چیک اپ کے لیے اس لیے گئے تھے تا کہ مجھے معلوم ہوسکے کہ میرے پیٹ میں درد اور صحت کی خرابی کی وجوہات کیا ہیں لیکن ان کی جانب سے تمام ٹیسٹوں کے بعد مجھے ویل چائلڈ کہہ کر فارغ کیا گیا۔حماد کے مطابق میرے والدین میری صحت کے حوالے سے ہسپتال کی اس بے حسی پر غور کر رہے ہیں۔اپنی پوسٹ کے آخر میں انہوں نے پوری قوم سے درخواست کی ہے کہ اْن کے لیے خصوصی دعا کریں کہ اللّٰہ تعالیٰ انہیں اس مشکل امتحان سے صبر کے ساتھ گزار سکے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)


جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…