اتوار‬‮ ، 16 اگست‬‮ 2026 

اداروں سے ٹکراؤ نہیں چاہتے، عمران خان کی ناجائز حکمرانی قبول نہیں، اسلام آباد آزادی مارچ کا فیصلہ اٹل ہے، مولانا فضل الرحمن نے بڑا اعلان کردیا

datetime 29  ستمبر‬‮  2019 |

ڈیرہ اسماعیل خان(این این آئی) جمعیت علمائے اسلام کے مرکزی امیر مولانا فضل الرحمن نے واضح کیا ہے کہ عمران خان کی ناجائز حکومت کی حکمرانی کو تسلیم نہیں کرتے، اسلام آباد آزادی مارچ کا فیصلہ اٹل ہے، اداروں سے ٹکراؤ نہیں چاہتے، ڈیل یا ڈھیل ہم نہیں حکومت چاہتی ہے،یروں سے نہیں عملی اقدامات سے دنیا سے اپنا موقف منوایا جاسکتا ہے، کیا وزیراعظم عمران خان کی ایک تقریر سے مہنگائی ختم اور معیشت اچھی ہو جائیگی؟۔

میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ تقریروں سے نہیں عملی اقدامات سے دنیا سے اپنا موقف منوایا جاسکتا ہے، ناکام سفارتی حکمت عملی سے قومیں دھمکیوں پر اتر آتی ہیں، پہلے آئی ایس آئی اور فوج کو القاعدہ کا ذمہ دار کہنے والے اب ایٹمی جنگ کی بات کرکے دنیا کو کیا پیغام دینا چاہتے ہیں، پاکستان میں توہین رسالت کی حمایت کرنے والے باہر ملک میں بیٹھ کر لوگوں کی تسکین کیلئے مذہبی لوگوں کو تقسیم کرنے کی سازش کرتے ہیں، یہ کہتے کچھ اور کرتے کچھ ہیں۔مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ عمران خان امریکا میں کشمیر کیلئے دنیا سے حمایت حاصل نہیں کرسکے، عمران خان کو پاکستان پر مسلط کرنے کیلئے لایا گیا ہے، ناموس رسالت کی بات کرتے ہیں کیا انہوں نے آسیہ ملعونہ، توہین رسالت کے مرتکب قادیانی رہنما کو باعزت رہا اور ان کے پسندیدہ ملکوں اور ٹرمپ کے دربار میں پیش نہیں کیا۔انہوں نے جمعیت علمائے اسلام کی مجلس عاملہ کے رکن مولانا محمد حنیف کی شہادت کے واقعہ کی مذمت کی اور ان کے خاندان سے اظہار ہمدردی کرتے ہوئے کہا کہ یہاں یہ سوال اٹھتا ہے کہ ریاستی ادارے ملک سے دہشتگردی کے خاتمے کے جو دعوے کر رہے تھے وہ غلط ثابت ہوئے، آج خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے نہتے عوام کو دہشتگردوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے، ادارے خاموش ہیں، احتساب کو اپوزیشن کیخلاف ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے۔مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ ہمارا مطالبہ ہے کہ ملک میں آئینی و جائز حکومت ہونی چاہئے،

ہم نے اسلام آباد میں جمعیت علمائے اسلام کی مرکزی مجلس عاملہ کا اجلاس طلب کیا ہے جس میں آئندہ کا لائحہ عمل تیار کیا جائے گا۔انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ہم نے پورے ملک میں 15 ملین مارچ کئے، لاکھوں لوگ ہمارے ملین مارچ میں شریک ہوئے، لوگوں کی آمد اور گھروں تک واپسی کے دوران کہیں ایک پتہ تک نہیں گرا اور نہ کوئی شیشہ ٹوٹا۔ ہم نے ثابت کیا کہ ہم پر امن لوگ ہیں۔مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ مقتدر قوتیں عوام کی خواہشات اور سوچ سے متصادم اقدامات نہیں کرتیں،

ہم اداروں سے تصادم نہیں چاہتے، عوام کی سوچ کو کوئی رد نہیں کرسکتا اور ہمیں اپنے ان ریاستی اداروں سے اس قسم کی توقع ہے۔وزیراعظم عمران خان کے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 74 ویں اجلاس میں خطاب سے متعلق سوال پر جے یو آئی ف کے سربراہ نے کہاکہ کیا وزیراعظم عمران خان کی ایک تقریر سے مہنگائی ختم اور معیشت اچھی ہو جائیگی۔مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ غریب پس رہا ہے، نوجوان نسل کی امیدیں خاک میں مل گئی ہیں اور قوم ایک سال میں تھک چکی ہے۔انہوں نے کہا کہ عوام کی طرف جانا جمہوریت کا حصہ ہے، احتجاجی تحریک میں ازسر نو آزادانہ الیکشن کا مطالبہ کریں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)


جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…