اتوار‬‮ ، 16 اگست‬‮ 2026 

ملک میں اگر کوئی تبدیلی آئی یا لائی گئی ہے تو وہ سیاسی نہیں بلکہ دوسری قوتوں کی طرف سے لائی گئی ہے،اب کیا ہوگا؟سرداراخترمینگل نے بڑا دعویٰ کردیا

datetime 24  ستمبر‬‮  2019 |

کوئٹہ(این این آئی)بلو چستان نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر و رکن قومی اسمبلی سرداراختر جان مینگل نے کہا ہے کہ بلوچستان کا موسم اسلام آباد کے موسم کی مناسبت سے بدلتا ہے جبکہ اسلام آباد کا موسم سیاسی جماعتوں نہیں بلکہ کسی اور کے کہنے سے بدلتا ہے موسم بدلتے دیر نہیں لگتی بارش بھی ہوسکتی ہے سیلاب بھی آسکتا ہے زلزلے کے جھٹکے بھی آسکتے ہیں ہم نے صرف حکومتیں گرانے کیلئے سیاست نہیں کی کسی بھی حکومت کی ترجیحات میں بلوچستان شامل نہ ہو

ہم اسکا ساتھ نہیں دیتے اگر ایک بار پھر بلوچستان کو قربانی کا بکرا بنایا جائے گا تو پھر ہم اپنا خون بہانا نہیں چاہتے،ملک میں اگر کوئی تبدیلی آئی یا لائی گئی ہے تو وہ سیاسی نہیں بلکہ دوسری قوتوں کی طرف سے لائی گئی ہے مجھے پاکستان میں سیاسی انقلاب نظر نہیں آرہابدقسمتی سے پاکستان کی سیاسی قیادت میں وہ صلاحیت نہیں ہے کہ وہ سیاسی تبدیلیاں لاسکیں اگر اب غیر سیاسی قوتوں کی طرف سے تبدیلی لائی جاتی ہے تو اس تبدیلی کا کیا فائدہ ہے۔یہ بات انہوں نے منگل کی رات نجی ٹی وی سے بات چیت کرتے ہوئے کہی۔انہوں نے کہا کہ یہ کہنا قبل ازوقت ہے کہ انتخابات ہونگے 2018ء کے انتخابات میں دھاندلی سے نہ صرف ایوان سے باہر بیٹھی جماعتیں بلکہ ہم بھی متاثر ہوئے ہیں راتوں رات سیاسی جماعتیں بناکرانہیں مینڈیٹ دیا گیاحقیقی نمائندوں کے نتائج تبدیل کرنے والے ذمہ داروں کا تعین کیا جائے اور جب تک انہیں سزائیں نہیں دی جاتی آج جنہیں الیکشن جتوایا گیا ہے کل کسی اور کو جتوائیں گے یہ سلسلہ چلتا رہے گاجب تک سزا و جزا کا عمل طے نہیں ہوتا جتنے بھی الیکشن ہوں اس میں نتائج ایسے ہی آئیں گے۔انہوں نے کہا کہ میں نے اپوزیشن کے سامنے واضح کیا ہے کہ سیاسی معاملات میں کسی بھی ادارے کی مداخلت قبول نہیں کریں گے تمام ادارے اپنے دائرہ اختیارمیں رہ کر کام کریں پی ٹی آئی کی حکومت نے کم از کم یہ تسلیم کیا کہ ہمارے چھ نکات بلوچستان کے حقیقی مسائل پر مبنی ہیں یہی مطالبات ہم (ن) لیگ کے پاس بھی لیکر گئے تھے اور پیپلز پارٹی کے پاس بھی گئے تھے

لیکن اس بات کا کریڈٹ پی ٹی آئی کو ملنا چاہئے کہ انہوں نے ہم سے ان نکات پر معاہدہ کیا عملدرآمد ہوا یا نہیں ہوا یہ الگ بات ہے پانچ فیصد ہودس فیصد ان مطالبات کو حل کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ پچھلے حکمرانوں نے ہمارے مطالبات کو ردی کی ٹوکری میں ڈال دیااب جو پی ٹی آئی کی قیادت سے ملاقات ہوگی اس میں حتمی ڈیڈ لائن دیں گے اگر عملدرآمد نہیں ہوا تو ہم اپنے فیصلے کرنے میں آزاد ہیں میرا بس چلے تو آج کے آج مطالبات حل کریں لیکن یہ پی ٹی آئی پر منحصر ہے کہ وہ کتنا وقت مانگتے ہیں تین مہینے سے زائدہ ٹائم نہیں دیں گے۔انہوں نے کہا کہ اگر اپوزیشن جماعتیں یہ یقین دہانی کرائیں کہ وہ اقتدارمیں آنے کے بعد چھ نکات پر عمل کریں گی اور بلوچستان کو قربانی کا بکرا نہیں بنائیں گی تو آنے والے دنوں میں انکے احتجاج میں شریک ہونے کے حوالے سے پارٹی سے مشاورت کریں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)


جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…